’ہم کرائے کے قاتلوں کے سامنے نہیں جھکیں گے‘:آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو خبردار کیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قوم سے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ٹرمپ حکومت کا کسی بھی وقت خاتمہ ہو جائے گا۔ مظاہروں کے درمیان رضاپہلوی نے ٹرمپ سے مدد کی اپیل کی۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اتھارٹی کو چیلنج کر تی نظر آ رہی ہے۔ یہ مظاہرے تیزی سے پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں، جوکئی شہروں اور قصبوں تک پھیل چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ان مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد کم از کم 62 ہو گئی ہے اور تقریباً 2300 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام لگایا کہ وہ دوسرے ملک کے صدر کو خوش کرنے کے لیے اپنی ہی سڑکوں کو برباد کر رہے ہیں۔ خبر وں کے مطابق جمعہ کو انٹرنیٹ سروس بند کر دی تھیں، جب کہ ویڈیوز میں کئی شہروں کی سڑکوں پر حکومت مخالف مظاہروں میں عمارتوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ ایک ٹیلیویژن خطاب میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم کیا اور مظاہرین پر الزام لگایا کہ وہ غیر ملکی اپوزیشن گروپوں اور امریکہ کی جانب سے کام کر رہے ہیں۔
تہران میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے واشنگٹن پر صریح منافقت کا الزام لگایا۔ انہوں نے امریکی خارجہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "آپ دیکھ سکتے ہیں کہ انہوں نے لاطینی امریکی ملک کو کس طرح گھیر لیا ہے اور وہ وہاں کیا کر رہے ہیں۔ انہیں کوئی شرم نہیں ہے اور کھلے عام کہتے ہیں کہ یہ سب تیل کے لیے ہے "۔
ایران کے سپریم لیڈر نے تہران اور دیگر شہروں میں راتوں رات ہونے والی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کی اور اس کا ذمہ دار مظاہرین کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ امریکی صدر کو خوش کرنے اور ان کی تعریف حاصل کرنے کے لیے اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تباہی پر تلے ہوئے کچھ لوگ امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے آئے اور اپنے ہی ملک کی عمارتوں کو تباہ کر دیا۔ اگر وہ اتنے ہی اہل ہیں تو پہلے اپنے ملک کا خیال رکھیں۔
انہوں نے ایران کی فوجی طاقت کے حوالے سے بھی چیلنجنگ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایرانی قوم انقلاب سے پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ مسلح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری روحانی طاقت اور روایتی ہتھیاروں کا ماضی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں امریکی اندازے آج بھی اتنے ہی غلط ہیں جتنے پہلے تھے۔
ایران کے جلاوطن ولی عہد شہزادہ رضا پہلوی نے جمعرات اور جمعہ کو رات آٹھ بجے مظاہروں کی کال دی۔ مقامی وقت 8 جنوری کی رات کو مظاہروں نے زور پکڑا، جس سے صدر مسعود پیزشکیان کی قیادت میں ایرانی حکومت نے ملک کی انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس بند کر دی۔ ملک کی عدلیہ اور سیکورٹی فورسز کے سربراہان نے "آزادی" کے عوامی نعروں کے درمیان سخت کارروائی کا انتباہ دیا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے قوم سے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ ٹرمپ حکومت کا بھی خاتمہ ہا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’’ٹرمپ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فرعون، نمرود، رضا شاہ جیسے آمروں کو ان کے غرور کی چوٹی پر گرا دیا گیا، وہ (ٹرمپ) بھی گریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ "سب کو سمجھنا چاہیے کہ ہم لاکھوں قربانیوں کے بعد اقتدار میں آئے ہیں، ہم کرائے کے قاتلوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔"
رضا پہلوی نے ایران میں مظاہروں کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد کی اپیل کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "میں نے لاکھوں بہادر ایرانیوں کو سڑکوں پر گولیوں کا سامنا کرتے دیکھا۔ آج وہ گولیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔مواصلاتی نظام بالکل درم برہم ہے، نہ انٹرنیٹ، نہ لینڈ لائن۔ جناب صدر(ٹرمپ)، براہ کرم ایران کے لوگوں کی مدد کے لیے مداخلت کے لیے تیار رہیں۔"
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔