یکم اکتوبر سے ’لیبر کوڈ‘ نافذ کرنے کی ہو رہی تیاری، بدل جائے گا تنخواہ کا اسٹرکچر!

مرکزی حکومت چاروں لیبر ایکٹ کو جلد از جلد نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یکم جولائی سے ہی لیبر کوڈ کے ضابطوں کو نافذ کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن ریاستی حکومتیں تیار نہیں تھیں۔

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

تنویر

میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق بہت جلد مرکز کی مودی حکومت ملک میں لیبر کوڈ کے ضابطوں کو نافذ کرنے والی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر سے ہی لیبر کوڈ نافذ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ملازمین کی ’ٹیک ہوم سیلری‘ اور ’پی ایف اسٹرکچر‘ میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ اس تبدیلی سے ملازمین کی ’ٹیک ہوم سیلری‘ جہاں گھٹ جائے گی، وہیں پی ایف میں زیادہ پیسہ جمع ہونے لگے گا۔

دراصل مرکزی حکومت چاروں لیبر ایکٹ کو جلد از جلد نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یکم جولائی سے ہی لیبر کوڈ کے ضابطوں کو نافذ کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن ریاستی حکومتیں تیار نہیں تھیں۔ ان چار لیبر کوڈس کے تحت مرکز اور ریاستوں دونوں کو ان ضابطوں کو نوٹیفائیڈ کرنا ہوگا، تبھی متعلقہ ریاستوں میں یہ قوانین وجود میں آئیں گے۔ لیبر ایکٹس کے نافذ ہونے کے بعد تنخواہ کے اسٹرکچر میں کئی طرح کی تبدیلیاں ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔


بتایا جاتا ہے کہ نئے قوانین نافذ ہونے کے بعد سے زیادہ تبدیلی ملازمین کی بیسک تنخواہ اور پی ایف اسٹرکچر میں دیکھنے کو ملے گی۔ وزارت محنت صنعتی تعلقات، تنخواہ، سماجی تحفظ، کاروباری و صحت سیکورٹی، اور کام کی نوعیت کو لے کر نیا ضابطہ نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔ چار لیبر کوڈس کے تحت 44 مرکزی لیبر ایکٹس کو منظم کیا جا سکے گا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ بدلاؤ کے بعد ملازمین کی بیسک تنخواہ 15 ہزار روپے سے بڑھ کر 21 ہزار روپے ہو سکتی ہے۔ لیبر یونین کا مطالبہ رہا ہے کہ ملازمین کی کم از کم بیسک تنخواہ کو 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 21 ہزار روپے کیا جانا چاہیے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں سرکاری یا پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہ بڑھ سکتی ہے۔

تنخواہ سے متعلق نئے کوڈ کے تحت بھتوں کو 50 فیصد پر محدود رکھا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملازمین کی کل تنخواہ کا 50 فیصد بیسک تنخواہ ہوگی۔ چونکہ پی ایف کا تعین بیسک تنخواہ کے فیصد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے پی ایف کی رقم میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ بیسک تنخواہ میں مہنگائی بھتہ بھی شامل رہتا ہے۔ فی الحال کمپنی مالکان تنخواہ کو کئی طرح کے بھتوں میں تقسیم کر دیتے ہیں جس سے بیسک تنخواہ کم رہتی ہے اور پی ایف کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس میں تعاون بھی نیچے رہتا ہے۔ نیا لیبر کوڈ نافذ ہونے کے بعد کمپنیوں پر مالی بوجھ بڑھے گا کیونکہ پی ایف میں ملازمین کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کا حصہ بھی بڑھے گا۔ اس کے ساتھ ہی بیسک تنخواہ بڑھنے سے گریچوئٹی کی رقم بھی اب پہلے سے زیادہ ہوگی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے کے مقابلے ڈیڑھ گنا تک زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان چیزوں سے پرائیویٹ کمپنیوں کی بیلنس شیٹ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔