’پی آر‘ سے جی ڈی پی کی تصویر چمکائی جا سکتی ہے، معیشت نہیں: جے رام رمیش
جے رام رمیش نے جی ڈی پی کے حوالے سے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’سابق فنانس سکریٹری سبھاش گرگ نے اب اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اصل جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 2.6 فیصد ہے، 7.8 فیصد نہیں۔‘‘

کانگریس نے حال ہی میں جاری کردہ ’گروس ڈومیسٹک پروڈکٹ‘ (جی ڈی پی) کے اعداد و شمار پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ’پی آر‘ سے جی ڈی پی کی تصویر چمکائی جا سکتی ہے، معیشت نہیں۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مودی حکومت جتنا اپنی ٹیم اور میڈیا کے ذریعہ اعداد و شمار کی بازیگری سے تیار کردہ فرضی جی ڈی پی اضافے کا ڈھول پیٹے گی، اتنا ہی اس کی اصلیت سامنے آئے گی کیونکہ یہ زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’سابق فنانس سکریٹری سبھاش گرگ نے اب اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اصل جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً 2.6 فیصد ہے 7.8 فیصد نہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ معیشت واقعی مضبوط ہو، لیکن مضبوط معیشت کا راستہ جھوٹ کی بنیاد پر تیار کیے گئے اعداد و شمار کو سجانے سے نہیں بلکہ سچائی کو قبول کرنے سے نکلتا ہے۔‘‘
جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’حکومت کو پہلے معیشت کی حقیقی صورتحال قبول کرنی چاہیے، پھر اصلاح کرنی چاہیے۔ تاکہ نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہوں، ایم ایس ایم ای اور ذاتی سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو، طلب اور آمدنی میں اضافہ ہو، معاشی عدم مساوات کم ہو اور قریبی سرمایہ کاروں کو آگے بڑھانے کے بجائے منصفانہ مقابلہ یقینی بنایا جائے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ پی آر سے جی ڈی پی کی تصویر چمکائی جا سکتی ہے، معیشت نہیں۔ واضح ہے کہ جس جی ڈی پی پر مودی جی اہل وطن کو پٹاخہ پھوڑنے اور دیوالی منانے کو کہہ رہے ہیں، اس پر خود ان کے سابق فنانس سکریٹری سوال اٹھا رہے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
