’جی ڈی پی کا جشن، عام آدمی پریشان‘، کھڑگے نے مودی حکومت کو ’تین یو‘ پر گھیرا
ملکارجن کھڑگے نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو پر مودی حکومت کو گھیرتے ہوئے بے روزگاری، مہنگائی اور عدم مساوات کو ’تین یو‘ قرار دیا۔ انہوں نے کرونی سرمایہ داری اور دولت کی غیر مساوی تقسیم پر بھی حملہ کیا

کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے اپریل تا جون سہ ماہی میں 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کے دعوے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جی ڈی پی نمو کا جشن منا سکتی ہے، لیکن عام آدمی اس عیش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کھڑگے نے مودی حکومت پر بے مثال بے روزگاری، ناقابل برداشت مہنگائی اور بے لگام عدم مساوات یعنی ’تین یو‘ کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالنے کا الزام عائد کیا۔
کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ کا آغاز ’لائٹ کیمرہ اینڈ انکینشن‘ سے کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کے معاملے میں مودی حکومت کی تشہیری سرگرمیوں کے پیچھے عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جی ڈی پی نمو کا جشن منانے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن عام آدمی کے لیے حالات مختلف ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے پیر کو مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کو ’غیر معمولی کامیابی‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے اقتصادی صورتحال پر سوال اٹھانے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ مایوسی پھیلانے والے ناکام ہوئے اور ہندوستان ایک بار پھر ترقی کی راہ پر آگے بڑھا ہے۔
کھڑگے نے بے روزگاری کو ’تین یو‘ کا پہلا مسئلہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں بے روزگاری 50 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، 40 فیصد نوجوان گریجویٹس بے روزگار ہیں اور جولائی 2026 میں 15 سے 29 سال کی عمر کے ہر چھ میں سے ایک نوجوان بے روزگار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔
مہنگائی کے حوالے سے کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ خوردہ افراط زر 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی، پیاز، ٹماٹر، دال، خوردنی تیل، چاول اور دودھ سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں عام لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہیں، جبکہ پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور سی این جی بھی مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق متوسط طبقے کے خاندان کسی طرح زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ غریب طبقے نے امید چھوڑ دی ہے۔
اقتصادی عدم مساوات کے معاملے پر کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ ملک کی صورتحال برطانوی دور سے بھی بدتر ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کی مجموعی دولت کا 40 فیصد حصہ صرف ایک فیصد امیر ترین افراد کے پاس ہے، جبکہ نچلے 50 فیصد افراد کے پاس صرف 15 فیصد دولت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے آزادی کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں غریبوں سے امیروں کی طرف دولت کی سب سے بڑی منتقلی کی ہے۔
کھڑگے نے مودی حکومت پر ’بے لگام کرونی سرمایہ داری‘ کو اقتصادی پالیسی بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 سے اب تک 16 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے کارپوریٹ قرضے معاف کیے گئے ہیں۔ ایک حالیہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 22,006 کروڑ روپے کے منظور شدہ دعووں کے مقابلے میں قرض دہندگان کو صرف 6.5 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی، یعنی 99.97 فیصد کا ’ہیئر کٹ‘ ہوا۔
کھڑگے نے وزیر اعظم پر ایک کاروباری دوست کے مفادات کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم ایک ’کرونی دوست کے ذاتی ٹریول ایجنٹ‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانیوں کو سونا نہ خریدنے اور بیرون ملک سفر نہ کرنے کے مودی کے مشوروں کو بھی زمینی حقیقت سے متصادم قرار دیا۔
کھڑگے نے کہا کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار اور حکومت کے جشن کے برعکس عام لوگوں کو درپیش مسائل بدستور موجود ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ کچھ نہیں بدلا، سوائے لوگوں سے جھوٹ بولنے کی آپ کی صلاحیت کے۔‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
