سیاسی طول پکڑ رہا ہے پور قاضی میں طلبا کے ساتھ چھیڑخانی معاملہ، کانگریس نمائندہ وفد نے متاثرین سے کی ملاقات

متاثرہ طالبات سے ملنے کے بعد کانگریس نمائندہ وفد میں شامل کانگریس ضلع صدر سبودھ شرما نے کہا کہ یہ ایک بے حد شرمناک واقعہ ہے اور انھیں کافی برا لگ رہا ہے۔

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

مظفر نگر ضلع کے پور قاضی تھانہ علاقہ کے ایک اسکول میں منیجرس کے ذریعہ 17 طالبات کے ساتھ کی گئی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں دونوں ملزم یوگیش کمار اور ارجن کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ معاملے کو عام آدمی پارٹی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ پارلیمنٹ میں بھی اٹھا چکے ہیں۔ ہفتہ کے روز کانگریس نمائندہ وفد نے بھی متاثرہ طالبات کے گھر مجلس پور توفیر جا کر ان سے ملاقات کی۔ کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ طالبات کے گھر والے اب دونوں اسکول کی منظوری ختم کرنے اور ملزمین کے خلاف این ایس اے لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پور قاضی تھانہ علاقہ سے 5 دسمبر کو بے حد شرمناک واقعہ سامنے آیا تھا۔ یہاں کے دو اسکول منیجرس نے انسانیت، استاد کے وقار اور ایمانداری کو تار تار کرتے ہوئے پریکٹیکل کے نام پر طالبات کو نشیلی اشیاء دے کر ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ تھی کہ پور قاضی پولیس نے واقعہ کو 16 دن تک چھپا کر رکھا تھا۔ بعد میں پور قاضی تھانہ انچارج کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا تھا، لیکن واقعہ کو لے کر مقامی سطح پر کافی ناراضگی ہے۔


واقعہ 18 نومبر کا ہے۔ بھوپا تھانہ علاقہ کے سوریہ دیو پبلک اسکول کی 17 طالبات کو پریکٹیکل کرانے کے بہانے کمہیڑا گاؤں کے جی جی ایس انٹرنیشنل اسکول میں لے جایا گیا تھا۔ تاخیر کا بہانہ بتا کر رات اسکول میں روک کر کھچڑی میں نشیلی چیز ملا کر ان کے ساتھ اسکول منیجرس نے رات بھر چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ یہ سبھی دسویں درجہ کی طالبات تھیں۔ جس اسکول میں یہ شرمناک واقعہ پیش آیا، اس اسکول کو صرف آٹھویں درجہ تک ہی منظوری ملی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی محکمہ تعلیم کے انتظام کی قلعی کھولتی ہے۔ یہاں ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ واقعہ کے اگلے دن طالبات نے اس کی جانکاری اپنے گھر والوں کو دی تو انھوں نے فوراً پولیس کو اس کی جانکاری دی تھی۔ لیکن پولیس نے گھر والوں کو جھوٹا بتا کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ بھی حیرت انگیز ہے کہ مقامی صحافیوں نے جب واقعہ کی تہہ میں جانے کی کوشش کی تو ملزم اسکول منیجر ارجن چوہان اور یوگیش نے انھیں رعب میں لینے کی کوشش کی اور دبنگئی کا مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ اس وقت کے تھانہ انچارج بھی ملزمین کی طرف نرم رویہ رکھے ہوئے تھے۔

مجلس پور توفیر کی ایک متاثرہ سمرن سینی (بدلا ہوا نام) نے بتایا کہ واقعہ کے بعد سے وہ بہت تناؤ میں ہے۔ وہ پرنسپل سر کو بہت اچھا انسان سمجھتی تھی، لیکن وہ تو حیوان نکلے۔ انھوں نے سازش کر کے ہماری بنائی ہوئی کھچڑی کو کچا بتا کر پھینک دیا اور اپنی کھچڑی سب بچوں کو کھلائی۔ سبھی طالبات 10ویں کے پریکٹیکل کا امتحان دینے کے لیے گئی تھیں۔ کوئی نہیں جانتی تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ دونوں اسکول کے بڑے سر رات میں کمرے میں پہنچے۔ لڑکیوں کو محسوس ہوا کہ ان کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔ ہم نے جب احتجاج کیا تو انھوں نے ہمیں ڈرا کر خاموش رہنے کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ ہمیں بدنام کر دیں گے۔


ایک دیگر متاثرہ طالبہ کے والد منٹو کمار نے بتایا کہ پولیس نے 17 دن بعد ہماری شکایت پر کارروائی کی۔ کارروائی ایس ایس پی صاحب سے ملنے کے بعد ہوئی۔ مقامی کوتوال نے ہماری کوئی سماعت نہیں کی، وہ دونوں اسکول منیجرس ارجن سنگھ اور یوگیش کمار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔

گاؤں میں ہفتہ کے روز پہنچے کانگریس نمائندہ وفد میں شامل کانگریس ضلع صدر سبودھ شرما متاثرین سے ملاقات کر کے بتایا کہ یہ ایک بے حد شرمناک واقعہ ہے اور انھیں کافی برا لگ رہا ہے۔ ملزمین نے تعلیم کے عمل کو داغدار کرنے کا کام کیا ہے۔ مجلس پور توفیر گاؤں میں عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے بھی متاثرہ طالبات سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بیٹیوں کو تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں، لیکن یہاں بیٹیاں اسکول میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب سے حیرت انگیز یہ ہے کہ پولیس نے معاملے کو 17 دن تک دبائے رکھا۔ یہ واقعہ خراب نظامِ قانون کے ساتھ ہی تعلیمی نظام پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔ آخر آٹھویں تک منظوری والے اسکول میں دسویں کے طالبات کو پریکٹیکل امتحان کس بنیاد پر دلوایا جا رہا تھا۔ یہ معاملہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں جانا چاہیے اور ملزمین کو جلد سزا ملنی چاہیے۔


واقعہ کے بعد مقامی سطح پر بھی کافی ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ مجلس توفیر گاؤں کے رمیش سینی کا کہنا ہے کہ اب بیٹیوں کو اسکول بھیجنے کا کوئی مطلب نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ ہم پوری طرح مایوس ہو چکے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ بہت ہی غلط ہوا ہے۔ اس واقعہ سے پورے علاقے میں لڑکیوں کے اسکول جانے کی تعداد میں کمی آئے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 13 Dec 2021, 10:11 PM