سونیا گاندھی نے متنازعہ سوالنامہ کے خلاف پارلیمنٹ میں اٹھائی آواز، تو سی بی ایس ای نے کیا غلطی کا اعتراف

سی بی ایس ای نے کہا ہے کہ 10ویں کے انگریزی سوالنامہ میں دیا گیا اقتباس نمبر 1 بورڈ کی گائیڈلائنس کے مطابق نہیں ہے، ایسے میں اسے سوالنامہ سے ہٹایا جاتا ہے۔

سونیا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
سونیا گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سی بی ایس ای کی 10ویں کے امتحان میں پیش کردہ ایک اقتباس کے ضمن میں وزارت تعلیم اور سی بی ایس ای کی سخت مذمت کی۔ رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ سونیا گاندھی نے لوک سبھا میں سی بی ایس ای کے نصاب کا ایشو اٹھا اور معافی کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کی اس مخالفت کے بعد سی بی ایس ای نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ہے۔ سی بی ایس ای 10ویں امتحان میں انگریزی سوالنامہ میں موجود متنازعہ سوال پر ہنگامہ کے بعد بورڈ نے پیر کے روز اسے واپس لینے کا اعلان کیا۔ سی بی ایس ای نے کہا کہ درجہ 10 کے انگریزی امتحان میں پیش کردہ اقتباس نمبر 1 بورڈ کی گائیڈلائنس کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے میں اس سوال کو ہٹایا جاتا ہے۔ اس اقتباس کے پورے مارکس سبھی طلبا کو ملیں گے۔


سی بی ایس ای نے نوٹس میں کہا ہے کہ ’’درجہ دسویں ٹرم-1 امتحان کے انگریزی لینگویج اینڈ لٹریچر سوالنامہ کے اقتباس کا ایک سیٹ بورڈ کی ہدایات کے مطابق نہیں ہے۔ اس پر ملے رد عمل کی بنیاد پر بورڈ نے اس معاملے کو سبجیکٹ کے ماہرین کے پاس تجزیہ کے لیے بھیجا تھا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر اقتباس نمبر 1 اور اس سے متعلق سوال کو سوالنامہ سے ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے بدلے میں طلبا کو پورے نمبر دیئے جائیں گے۔‘‘

اس سے قبل پیر کے روز لوک سبھا میں سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ سی بی ایس ای کی 10ویں کے امتحان میں ایک بے حد قابل اعتراض اقتباس دیا گیا جس میں لکھا گیا ہے ’’خواتین کو آزادی، سماجی اور خاندانی مسائل کی وجہ سے مل رہی ہے۔‘‘ اقتباس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’بیویوں نے اپنے شوہر کی بات ماننی بند کر دی ہے اور یہی اہم وجہ ہے کہ بچے اور ملازم ڈسپلن میں نہیں ہیں۔‘‘


سونیا گاندھی نے کہا کہ اس پورے اقتباس میں بے حد قابل اعتراض باتیں کہی گئی ہیں، جس کا کوئی مطلب نہیں ہے ان کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں بچوں، سرپرستوں، اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی فکر سب کے سامنے رکھ رہی ہوں اور اس طرح کے خواتین مخالف مواد پر سخت اعتراض درج کرتی ہوں۔ اس طرح کے مواد سے تعلیم کے خراب پیمانوں کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ترقی پذیر اور مضبوط سماج کے ضابطوں اور قواعد کے خلاف ہے۔‘‘ سونیا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ اس قابل اعتراض مواد کو جلد سے جلد ہٹایا جائے۔ علاوہ ازیں انھوں نے سوالنامہ کے اس متنازعہ حصہ کی مذمت کرتے ہوئے وزارت تعلیم اور سی بی ایس ای سے اس پر معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے سی بی ایس ای نصاب میں جنسی حساسیت کے پیمانہ کا جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے اس عمل کو نفرت آمیز قرار دیتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے ’’آر ایس ایس-بی جے پی نوجوانوں کے حوصلے اور مستقبل کو کچلنے کی سازش کر رہے ہیں۔ بچوں، اپنا بہترین کرو۔ محنت رنگ لاتی ہے، شدت پسندی نہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔