اتر پردیش: داڑھی رکھنے پر پولس اہلکار معطل، ایس پی نے کہا 'اجازت کیوں نہیں مانگی'

سب انسپکٹر انتشار علی کو بغیر اجازت لیے داڑھی رکھنے کے سبب معطل کرتے ہوئے پولس لائنس بھیج دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انتشار علی کا کہنا ہے کہ اجازت اس نے مانگی تھی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

روی پرکاش

اتر پردیش میں ایک پولس اہلکار کو صرف اس لیے ملازمت سے معطل کر دیا گیا کیونکہ اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق سب انسپکٹر انتشار علی کو بغیر اجازت داڑھی رکھنے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا اور پولس لائنس بھیج دیا گیا ہے۔ انتشار علی کو داڑھی ہٹانے کے لیے تین بار تنبیہ کی گئی تھی اور داڑھی بڑھانے کو لے کر اجازت لینے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ انتشار علی نے اس سلسلے میں اجازت نہیں لی اور داڑھی کو بڑھانا جاری رکھا۔

باغپت کے پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ابھشیک سنگھ کا کہنا ہے کہ پولس مینوئل کے مطابق صرف سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت ہے جب کہ دیگر سبھی پولس اہلکاروں کو چہرہ صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔ ایس پی نے کہا کہ "اگر کوئی پولس اہلکار داڑھی رکھنا چاہتا ہے تو اسے اس کی اجازت لینی ہوگی۔ انتشار علی سے بار بار اجازت کے لیے کہا گیا، لیکن انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور بغیر اجازت کے داڑھی رکھ لی۔"

قابل ذکر ہے کہ انتشار علی پولس فورس میں سب انسپکٹر کے طور پر شامل ہوئے اور گزشتہ تین سالوں سے باغپت میں تعینات تھے۔ جب میڈیا نے ان سے داڑھی رکھنے سے متعلق اجازت نامہ طلب نہ کیے جانے کا سبب پوچھا تو انھوں نے کہا کہ "میں نے داڑھی رکھنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔"

next