پی ایم مودی زرعی قوانین کی واپسی کے بعد بی جے پی لیڈروں کی متضاد بیانات پر لگام لگائیں: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کے ذریعہ تقریباً ایک سال میں تحریک کار کسانوں کے تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ قبول کرنے کے ساتھ ان کے کچھ دیگر جائز مطالبات کا بھی مناسب حل نکالنا چاہیے۔

مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
مایاوتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی سے زرعی قوانین واپس لینے کے اعلان کے بعد بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ ان قوانین کو انتخابات کے بعد پھر سے بحال کئے جانے جیسے بیانات پر لگام لگانے کی درخواست کی ہے۔

مایاوتی نے پیر کو وزیر اعظم مودی سے کسانوں کے دیگر جائز مطالبات کو قبول کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی کے ذریعہ تقریباً ایک سال میں تحریک کار کسانوں کے تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کچھ دیگر جائزمطالبات کا بھی مناسب حل نکالنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ مطمئن ہوکر اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ کر اپنے کاموں میں پوری طرح سے مشغول ہوسکیں۔‘‘


ملحوظ رہے کہ تحریک کار کسان تنظیموں نے کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) پر قانون بنانے اور تحریک کے دوران مارے گئے کسانوں کو شہید کا درجہ دے کر ان کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یوپی کی سابق وزیر اعلی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا 'زرعی قوانین کی واپسی کی مرکزی حکومت کے اعلان کے تئیں کسانوں میں یقین پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں کے بیان بازی پر لگام لگائی جائے جو وزیر اعظم کے اعلان کے باوجود اپنے قابل اعتراض بیانات وغیرہ سے لوگوں میں شبہات کو پیدا کرکے ماحول کو خراب کر رہے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج سمیت کچھ دیگر لیڈروں نے بیان دیا ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ واپس لئے گئے قوانین کو یوپی انتخابات کے بعد پھر سے نافذ کرے گی۔ ادھر سنیوکت کسان مورچہ کی اپیل پر لکھنؤ میں پیر کو مہا پنچایت ہوئی ہے۔ بی کے یو کے ترجمان راکیش ٹکیٹ کی موجودگی میں ہوئی مہاپنچایت نے وزیر اعظم مودی کے نام چھ نکاتی مطالباتی خط بھیجا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔