پی ایم مودی نے ڈی ایف سی کے نیو ریواڑی-نیو مدار سیکشن کو قوم کے نام وقف کیا

دنیا میں پہلی بار دو منزلہ مال گاڑی چلائی جائے گئی۔ اس کے اوپر ایک کے اوپر ایک کنٹینر رکھے گئے ہیں، جس سے ٹرینوں کی مال برداری کی صلاحیت دگنی ہو گئی ہے۔

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز مغربی ڈیڈیکیٹیڈ فریٹ کوریڈور گوالیار (ڈی ایف سی) کے نیو ریواڑی-نیو مدار سیکشن کو قوم کے نام وقف کیا۔ مغربی ڈی ایف سی میں قوم کے نام وقف کیا جانے والا یہ پہلا سیکشن ہے۔ اس کی لمبائی 306 کلومیٹر ہے۔ اس موقع پر ورچوئل پروگرام میں وزیر اعظم نے ڈیڑھ کلومیٹر طویل دو منزلہ مال گاڑی کو بھی ہری جھنڈی دیکھا کرنیو اٹیلی سے نیو کشن گڑھ کے لئے روانہ کیا۔ اس سے قبل مودی نے 29 دسمبر کو مشرقی ڈی ایف سی کے 351 کلومیٹر طویل نیو بھاوپور۔ نیو کھرجا سیکشن کو قوم کے نام وقف کیا تھا۔

نیو ریواڑی-نیو مدار سیکشن کا 79 کلومیٹر ہریانہ کے ریواڑی اور مہندر گڑھ اضلاع میں ہے جبکہ باقی 227 کلومیٹر راجستھان کے اجمیر، سیکر، ناگپور اور الور اضلاع میں ہے۔ اس سیکشن میں نو نئے ریلوے اسٹیشن ہیں جنہیں ڈی ایف سی کے لئے بنایا گیا ہے۔ دنیا میں پہلی بار دو منزلہ مال گاڑی چلائی جائے گئی۔ اس کے اوپر ایک کے اوپر ایک کنٹینر رکھے گئے ہیں، جس سے ٹرینوں کی مال برداری کی صلاحیت دگنی ہو گئی ہے۔

مشرقی اور مغربی ڈی ایف سی کی تعمیر جون 2022 تک مکمل ہو جائے گی۔ پہلے اسے دسمبر 2021 تک مکمل کرنے کا ہدف تھا، لیکن اب کووڈ- 19 کے دوران کام متاثر ہونے کی وجہ سے تعمیراتی مدتِ کار میں توسیع کردی گئی ہے۔ اس پر مال گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 100 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوگی۔

ملک میں زیادہ سے زیادہ سے زیادہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مال گاریاں چل رہی تھیں، لیکن جب سے مشرقی ڈی ایف سی کے نیو بھاوپور۔ نیو کھرجا سیکشن کے افتتاح کے بعد مسلسل ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 90 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر رہی ہے ۔ ڈی ایف سی پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد مال گاڑیوں کی اوسط رفتار بھی 26 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 75 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔

جاپان سرکار کے مالی تعاون سے تعمیر کی جا رہی مغربی ڈی ایف سی میں اوور ہیڈ برقی کیبلز کی اونچائی زیادہ رکھی گئی ہے، جس سے دو منزلہ کنٹینرز کی ڈھولائی ہو سکے۔ اس ٹریک پر ڈبل اسٹیک کنٹینر والی لانگ مال گاڑیاں 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ اس راہداری کو ہندوستانی ریلوے کے ریسرچ یونٹ نے ڈیزائن کیا ہے۔ بی ایل سی ایس اے اور بی ایل سی ایس ویگنوں میں کنٹینر کی موجودہ صلاحیت کے مقابلے میں چار گنا زیادہ یونٹ لے سکیں گے۔

اس مال بردار راہداری سے شمالی ہندوستان میں مالڈی ماڈل لاجسٹک ہب اور دہلی-ممبئی صنعتی راہداری جڑے گی۔ اس سال کے اواخر میں ریواڑی سے دادری کے درمیان لائن چالو ہو جائے گی۔ اس طرح کانپور سے گجرات بندرگاہ کے مابین راست رابطہ قائم ہو جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next