اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہوڑ! سوڈان نے ’معاہدہ ابراہیم‘ پر کیے دستخط

فلسطینی تنظیموں نے سوڈان کی جانب سے معاہدے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں فلسطینیوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

خرطوم: سعودی عرب کی نصابی کتابوں سے نہ صرف یہودی مخالف مواد ہٹا دیا گیا بلکہ ہم جنس پرستی پر بھی خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔ اس دوران یہ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں کہ یہ عرب دنیا میں اصلاحات کے عمل کا نتیجہ ہے یا اسرائیل دوستی اس کی وجہ ہے؟ ادھر اسلامی ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد اب سوڈان نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب ان دنوں ملکوں نے 'معاہدہ ابراہیم' پر دستخط کر دیئے ہیں۔ سوڈانی حکومت نے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ اطلاع ترک خبر رساں ادارے نے دی ہے۔

فلسطینی تنظیموں نے بہر حال سوڈان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جانے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں فلسطینیوں کے حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ آزاد فلسطین کے مقصد کو نقصان پہنچائے گا۔ سوڈانی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ملک کے وزیر انصاف نصر الدین عبد الباری نے امریکی وزیر خزانہ اسٹیون ٹرنر کی خرطوم آمد کے موقع پر اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے سال اکتوبر میں ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا تھا کہ سوڈان اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والی عرب ریاستوں کی تعداد اب پانچ ہو گئی ہے۔ 1979 میں مصر اور اردن 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کی راہ ہموار ہونے کے مرحلے میں ہی امریکہ نے سوڈان کو ’دہشت گردی کی اعانت کرنے والے ملک‘ کی فہرست سے نکال دیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت سوڈان پر سے عالمی امداد حاصل کرنے کی پابندی ختم ہو گئی ہے اور اب سوڈان 27 سال بعد ورلڈ بینک سے مالی امداد حاصل کرسکے گا۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next