1930 سے منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کی آبادی بڑھانے کی کوشش ہوئی: آر ایس ایس

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہمیں دنیا سے سیکولرزم، سماجواد، جمہوریت سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ہماری روایتوں میں ہے، ہمارے خون میں ہے۔‘‘

موہن بھاگوت، تصویر یو این آئی
موہن بھاگوت، تصویر یو این آئی
user

تنویر

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے مسلمانوں کی بڑھتی آبادی اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تعلق سے ایک تازہ بیان دیا ہے جس پر ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے۔ موہن بھاگوت اس وقت آسام کے دو روزہ دورہ پر ہیں اور ایک تقریب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’1930 سے منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش ہوئی۔ ایسی سوچ تھی کہ آبادی بڑھا کر اپنی بالادستی قائم کریں گے اور پھر اس ملک کو پاکستان بنائیں گے۔ یہ نظریہ پنجاب، سندھ، آسام اور بنگال کے بارے میں تھا۔ کچھ حد تک ایسا ہوا، ہندوستان کی تقسیم ہوئی اور پاکستان وجود میں آ گیا۔ لیکن جیسا کہ پورے ہندوستان کو ایسا بنانا چاہتے تھے ویسا نہیں ہوا۔‘‘

موہن بھاگوت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’’ہمیں دنیا سے سیکولرزم، سماجواد، جمہوریت سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ ہماری روایتوں میں ہے، ہمارے خون میں ہے۔ ہمارے ملک نے انھیں نافذ کیا ہے اور انھیں زندہ رکھا ہے۔‘‘ یہ باتیں انھوں نے گواہاٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔


سی اے اے کے تعلق سے آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ یہ ہندوستان کے شہریوں کے خلاف بنایا گیا قانون نہیں ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو اس سے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’تقسیم کے بعد ایک یقین دہانی کرائی گئی کہ ہم اپنے ملک کے اقلیتوں کی فکر کریں گے۔ ہم آج تک اس پر عمل کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ایسا نہیں کیا۔‘‘ موہن بھاگوت نے مزید کہا کہ ’’سی اے اے سے کسی مسلمان کو کوئی دقت نہیں ہوگی۔ سی اے اے اور این آر سی کا ہندو-مسلم تقسیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کچھ لوگ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے فرقہ وارانہ شکل دے رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 21 Jul 2021, 5:11 PM