مودی حکومت ’کسان تحریک‘ میں ہلاک کسانوں کے اہل خانہ کو نہیں دے گی معاوضہ، راہل نے کہا ’آنسوؤں میں سب ریکارڈ ہے‘

ایک سوال کے تحریری جواب مرکز کی مودی حکومت نے بتایا کہ اس کے پاس کسان تحریک کے دوران بیمار پڑنے یا مرنے والے کسانوں کی کوئی تفصیل نہیں ہے، اور اس تعلق سے کسی طرح کے معاوضے کی تجویز بھی نہیں ہے۔

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

تنویر

دہلی بارڈرس پر کئی مہینوں سے جاری کسان تحریک کے دوران اب تک کئی کسانوں کی موت واقع ہو چکی ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں کسان بیمار بھی ہوئے ہیں۔ لیکن اس تعلق سے مرکزی حکومت کے پاس کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ قابل ذکر یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک تحریری جواب میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مظاہرہ کے دوران جن کسانوں کی موت ہوئی ہے، ان کے اہل خانہ کو کسی طرح کا معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ اس تعلق سے ایک رپورٹ ہندی نیوز پورٹل ’نیوز 18‘ میں شائع ہوئی ہے جس کا اسکرین شاٹ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے شیئر کیا ہے اور مرکزی حکومت کے جواب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اپنوں کو کھونے والوں کے آنسوؤں میں سب ریکارڈ ہے۔‘‘

دراصل ’نیوز 18‘ میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جب حکومت سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ جانتی ہے کہ مہینوں سے چل رہی کسان تحریک کے دوران کتنے لوگ بیمار پڑے یا مارے گئے، اس پر حکومت نے تحریری جواب دیا ہے کہ اس کے پاس اس کی کوئی تفصیل نہیں ہے، اور اس مسئلے پر کسی طرح کے معاوضے کی تجویز نہیں ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کا کہنا ہے کہ حکومت نے پہلے ہی کسان یونین سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ وہ کووڈ اور سردی کے سبب عورتوں، بزرگوں و بچوں کو گھر بھیج دیں۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت کے ایک افسر کے حوالے سے ’نیوز 18‘ نے لکھا ہے کہ نظامِ قانون ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس لیے مرکز کے پاس اس سے ہونے والی اموات کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔