ادے پور میں مجاہدین آزادی کے لگے پوسٹرس بی جے پی کو دے رہے منھ توڑ جواب

کانگریس کا ادے پور میں منعقد سہ روزہ چنتن شیویر پارٹی کی آئندہ پالیسی طے کرنے والے سمیلن کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک نئے انداز کے لیے بھی موضوعِ بحث ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانگریس کا ادے پور میں منعقد سہ روزہ چنتن شیویر پارٹی کی آئندہ پالیسی طے کرنے والے سمیلن کے طور پر ہی نہیں، بلکہ ایک نئے انداز کے لیے بھی موضوعِ بحث ہے۔ چنتن شیویر کے ساتھ کانگریس کی نئی پالیسی دیکھنے کو مل رہی ہے جس کے تحت پارٹی مجاہدین آزادی کو توجہ دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں مجاہدین آزاد کے لگے پوسٹرس اور ہورڈنگز لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔

پوسٹرس میں پارٹی صدور کے علاوہ سبھاش چندر بوس اور سروجنی نائیڈو جیسے مجاہدین آزادی کی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ تبدیلی بی جے پی کی اس تنقید کا ایک طرح سے منھ توڑ جواب ہے جس میں وہ الزام لگاتی رہتی ہے کہ کانگریس صرف چنندہ لیڈروں کو یاد کرتی ہے اور پی وی نرسمہا راؤ، سبھاش چندر بوس، لالہ لاجپت رائے اور دیگر مجاہدین آزادی کے تعاون کو نظر انداز کرتی ہے۔


ایک سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بار پارٹی نے ان پوسٹرس کے ذریعہ بھائی بھتیجہ واد کے الزامات کا منھ توڑ جواب دیا ہے۔ اس مرتبہ چنتن شیویر کے دوران شہر میں سابق وزیر اعظم آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ اور آنجہانی لال بہادر شاستری سمیت کئی مشہور لیڈروں کی تصویروں کے ہورڈنگز لگائے گئے ہیں۔ ادے پور کے اہم چوراہوں، ہوائی اڈے سے لے کر چنتن شیویر کے مقام تک سڑکوں کی دونوں جانب مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر راجندر پرساد، آنجہانی سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ سمیت کئی ہستیوں کے ہورڈنگز لگائے گئے ہیں۔ شہر میں گوپال کرشن گوکھلے کے ساتھ بھگت سنگھ اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ہورڈنگز بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

اس درمیان ریاستی انچارج اجئے ماکن نے کہا کہ ’’پارٹی نے ہمیشہ مجاہدین آزادی کو یاد کیا ہے۔ جنگ آزادی میں بی جے پی اور آر ایس ایس کو کبھی بھی دور دور تک نہیں دیکھا گیا تھا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔