پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ عوام مخالف: دہلی کانگریس

چودھری انیل نے منگل کے روز پارٹی کے ریاستی دفتر راجیو بھون سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو عوام مخالف قرار دیا۔

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے صدر چودھری انیل کمار نے کیجریوال حکومت کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کو نامناسب بتایا اور اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ چودھری انیل نے منگل کے روز پارٹی کے ریاستی دفتر راجیو بھون سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو عوام مخالف قرار دیا۔

چودھری انیل کمار نے کہا کہ کیجریوال حکومت کے اس اقدام سے عام آدمی اور چھوٹے دکاندار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ایندھن خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار میں اس قدر اضافے کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہوگا جس سے کورونا بحران سے قبل ہی بری طرح متاثر غریب طبقے کے سامنے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکومت کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو فی الفور واپس لینا چاہیے۔ غورطلب ہے کہ شراب کے بعد دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کے بعد پٹرول 1.67 روپے اور ڈیزل 7.10 فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ دہلی حکومت نے دونوں ایندھنوں پر لگ رہے ویٹ میں میں خاصہ اضافہ کیا ہے۔ پٹرول پر ویٹ 27 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل پر اسے 16.76 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دہلی حکومت نے شراب کی بوتل پر 70 فیصد ’خصوصی کورونا ٹیکس‘ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی حکومت کے ذرائع نے پیر کی رات اس کی اطلاع دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کے روز دہلی میں شراب کی بوتل پر پرنٹیڈ زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت پر 70 فیصد ’خصوصی کورونا ٹیکس‘ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ حکم منگل کے روز سے دہلی میں فروخت کی جانے والی شراب پر نافذ ہو گیا ہے۔ وہیں ویٹ میں اضافہ کے بعد راجدھانی میں ڈیزل کے دام بڑھ کر 69.29 روپے اور پٹرول کے دام 71.26 روپے فی لیٹر ہو گئے۔ ایندھن کی یہ بڑھی قیمتیں منگل سے لاگو ہو گئیں۔

next