پیگاسس جاسوسی معاملہ میں مودی حکومت کو مشکلات کا سامنا، سپریم کورٹ جلد کرے گا ایکسپرٹ کمیٹی بنانے کا اعلان

پیگاسس جاسوسی معاملے میں مودی حکومت کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، دراصل سپریم کورٹ نے جمعرات کو سماعت کے دوران کہا کہ وہ معاملے کی جانچ کے لیے ایکسپرٹ کمیٹی تشکیل دے گا۔

پیگاسس، تصویر آئی اے این ایس
پیگاسس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پیگاسس جاسوسی معاملے میں مودی حکومت کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ دراصل سپریم کورٹ نے جمعرات کو سماعت کے دوران کہا کہ وہ معاملے کی جانچ کے لیے ایکسپرٹ کمیٹی تشکیل دے گا۔ اگلے ہفتے اس تعلق سے حکم جاری ہوگا۔ چیف جسٹس این وی رمنا نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم اسی ہفتے حکم جاری کرنا چاہتے تھے، لیکن کچھ اراکین نے نجی اسباب کی بنا پر کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، اس لیے معاملے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں 13 ستمبر کو سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ اس میں 12 عرضیوں پر فیصلہ آئے گا۔ مرکزی حکومت نے مفاد عامہ اور قومی تحفظ کا حوالہ دے کر تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے سے انکار کیا تھا۔


چیف جسٹس این وی رمنا نے عدالت میں وکیل سی یو سنگھ کو کہا کہ سپریم کورٹ اسی ہفتے پیگاسس جاسوسی معاملے کی جانچ کے لیے کمیٹی تشکیل کرنا چاہتی ہے۔ جن لوگوں کو اس کمیٹی میں شامل کیا جانا ہے، ان میں سے کچھ نے شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ بین الاقوامی میڈیا ایجنسیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت ہند نے اسرائیلی اسپائی ویئر کے دم پر ملک میں کئی لیڈروں، صحافیوں اور دیگر ہستیوں کی جاسوسی کی گئی تھی۔ جس کے بعد وکیل ایم ایل شرما، سی پی ایم رکن پارلیمنٹ جان بریٹاس، صحافی این رام، سابق آئی آئی ایم پروفیسر جگدیپ چوکّر، نریندر مشرا، پرنجوئے گہا ٹھاکرتا، روپیش کمار سنگھ، ایس این ایم عابدی، سابق وزیر مالیات یشونت سنہا اور ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا نے سپریم کورٹ میں عرضیاں داخل کی تھیں۔

سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے ایک بار پھر سے اپنی پرانی باتوں کو دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ایشو کو سنسنی خیز بنانے کا جوکھم نہیں اٹھا سکتی۔ شہریوں کی پرائیویسی کا تحفظ کرنا بھی حکومت کی ترجیح ہے، لیکن ساتھ ہی حکومت قومی تحفظ کو رخنہ انداز نہیں کر سکتی۔ مرکز نے کہا کہ ہم حلف نامے کے ذریعے یہ جانکاری برسرعام نہیں کر سکتے۔


سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پیگاسس ایشو پر مرکزی حکومت سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار اسی بات پر واپس جا رہے ہیں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ ہم قومی مفاد کے ایشو میں نہیں جا رہے ہیں۔ ہماری محدود فکر لوگوں کے بارے میں ہے۔ کمیٹی کی تقرری کوئی ایشو نہیں ہے۔ حلف نامے کا مقصد یہ ہونا چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ پارلیمنٹ میں آپ کے اپنے آئی ٹی وزیر کے بیان کے مطابق کہ فون کا تکنیکی تجزیہ کیے بغیر اندازہ کرنا مشکل ہے۔ سی جے آئی نے آگے کہا کہ ہم نے مرکز کو حلف نامے کے لیے بار بار موقع دیا۔ اب ہمارے پاس حکم جاری کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں بچا ہے۔ کمیٹی مقرر کرنا یا جانچ کرنا یہاں سوال نہیں ہے اگر آپ حلف نامہ داخل کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ آپ کا اسٹینڈ کیا ہے۔

غور طلب ہے کہ پیگاسس جاسوسی معاملے میں کئی بڑے لیڈران اور صحافیوں کے نام آئے تھے۔ اس لسٹ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا بھی نام تھا۔ وہیں انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور سمیت دیگر لیڈر اور یہاں تک کہ مودی حکومت کے وزراء کے بھی نام شامل تھے۔ حالانکہ ان الزامات کو مرکزی حکومت نے بے بنیاد بتایا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔