آدھی آبادی کو محروم رکھ کر ترقی ممکن نہیں ہے...سید خرم رضا

طالبان کو جو موقع ملا ہے اس کا وہ صحیح استعمال کرے اور اپنے ملک کی آدھی آبادی کو تمام یکساں مواقع فراہم کرے، تاکہ افغان بچیاں بھی پوری دنیا میں دیگر بچیوں کی طرح نام روشن کرسکیں۔

افغانستان میں مظاہرہ کرتیں خواتین / Getty Images
افغانستان میں مظاہرہ کرتیں خواتین / Getty Images
user

سید خرم رضا

یہ بات اکثر کہی جاتی ہے اور بہت عام بھی ہے کہ خاتون کے بغیر گھر کا تصور کیسا اور گھر کو گھر بنانے کے لئے باقاعدہ مرد اور خاتون کو الگ الگ رواجوں کے مطابق شادی کے بندھن میں باندھا جاتا رہا ہے۔ سماج کا ایک معمولی طبقہ اس کا منکر بھی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا ہی لگتا ہے کہ خاتون اور مرد دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔

دنیا کے کئی حصوں میں خاتون کی ذمہ داری گھر سنبھالنے کی رہی تو کہیں ان سے کھیتوں میں بھی کام کروایا جاتا رہا ہے اور کہیں سماج کے ہر کام میں حصہ دار بھی بنایا، لیکن دنیا کے کسی بھی سماج کی کبھی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ نظر انداز کیا بھی کیسے جا سکتا ہے کیونکہ پوری دنیا کی آدھی آبادی جو ہے، دنیا کے جس حصہ میں بھی اس آبادی کو نظر انداز کیا گیا یا ان کی صلاحیتوں سے پوری طرح استفادہ نہیں اٹھایا گیا دنیا کا وہی حصہ دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔


آج کل خواتین کے تعلق سے افغانستان کی نئی حکومت کے فرمان اور بیانوں پر پوری دنیا میں بحث اور تبصرے ہو رہے ہیں۔ ایسا ہونا لازمی ہے، کیونکہ بیس سال پہلے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی تب کے حالات کو نظر میں رکھتے ہوئے سماج کے ہر ذی شعور طبقہ میں فکر لاحق ہونا ایک فطری بات ہے۔ اس مرتبہ طالبان نے اپنے رویہ میں تبدیلی کا اظہار کیا اور کہا کہ خواتین گھر سے باہر بھی کام کر سکتی ہیں اور لڑکیاں تعلیم بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سوال ہوتا ہے کہ کسی کو بھی کسی کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کس نے دیا ہے، لیکن طالبان کی اس معمولی تبدیلی کا بھی لوگوں نے خیر مقدم کیا۔

اب طالبان کی جانب سے خواتین کے حصول تعلیم اور دفتر میں کام کرنے کے لئے کچھ شرائط کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ پہلے یہ بیان آیا کہ خواتین وہی کام کر سکتی ہیں جس کی شریعت میں اجازت ہو، پھر یہ اعلان آیا کہ خواتین وزیر نہیں ہو سکتیں اور پھر یہ اعلان آیا کہ لڑکیاں اور لڑکے ساتھ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ اب پتہ نہیں کس ملک کی شریعت کو طالبان اسلامی شریعت مانتے ہیں کیونکہ سعودی عرب میں اصلاحات کا دور دورہ ہے اور وہاں خواتین کو اب ہر طرح کے حق دیئے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے پڑوسی ملک پاکستان میں خواتین کو ہر طرح کی آزادی ہے اور وہاں تو خاتون وزیر اعظم بھی رہ چکی ہیں۔ ترکی میں خواتین کے پاس تمام حقوق ہیں، انڈونیشیا، ایران وغیرہ وہ ممالک ہیں جہاں خواتین کو اس طرح کی کسی بھی بندش یا شرائط کا سامنا نہیں ہے۔


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغانستان میں غیر ملکی جارحیت کو ختم کرنے میں مذہبی جذبہ کا بہت اہم دخل رہا ہے اور اس دوران کہیں نہ کہیں اس جذبہ میں شدت بھی آئی ہے اور اس حقیقت سے بھی کوئی طالبانی رہنما انکار نہیں کر سکتا کہ طالبان کی اس کامیابی میں بھی خوایتن کا اہم کردار رہا ہے۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی آدھی آبادی کو نطرانداز نہ کرے اور ان کو ہر میدان میں قومی کردار ادا کرنے کے یکساں مواقع فراہم کریں۔ آج اگر طالبان نے اپنی طاقت کے نشہ میں ایسے فیصلے لئے جس سے ان کی اپنی آدھی آبادی گھروں میں قید ہو کر رہ جائے گی تو اس سے نہ صرف باہر سے ان کو تنقید کا شکار ہونا پڑے گا بلکہ خود ان کی خواتین اور ان کی بچیاں ایک بڑی روشنی سے محروم رہ جائیں گی۔

کسی بھی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی سیاسی جماعت کا نظریہ کچھ بھی ہو لیکن حکومت کا نظریہ صرف اور صرف ایک ہونا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں اور سب کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں۔ جو ریاست اپنے عوام کا خیال رکھیں گے اور ان کے لئے کام کریں گے وہی حقیقی مذہبی ریاست ہوگی۔


کوئی بھی حکومت اگر اپنی پچاس فیصد صلاحیتیں صرف اپنے نظریہ کو تھوپنے میں لگائے گی تو باقی پچاس فیصد سے عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عوام کو سہولیات پہنچانے کے لئے سو فیصد کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی بھی حکومت کے ذریعہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود ہی اس کا سب سے بہترین اور کامیاب نظریہ ہے۔ اس لئے طالبان کو جو موقع ملا ہے اس کا وہ صحیح استعمال کرے اور اپنے ملک کی آدھی آبادی کو تمام یکساں مواقع فراہم کرے، تاکہ افغان بچیاں بھی پوری دنیا میں دیگر بچیوں کی طرح نام روشن کرسکیں۔ اگر ایسا نہیں کیا تو بیس سال پہلے والے طالبان اور آج کے طالبان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔