پارلیمنٹ: جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات پر لوک سبھا میں بحث کا مطالبہ

حسنین مسعودی نے کہا کہ کشمیر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پارلیمنٹ کی فائل تصویر، یو این آئی
پارلیمنٹ کی فائل تصویر، یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے مسلسل بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے پر بحث کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں نیشنل کانفرنس (این سی) کے رہنما حسنین مسعودی نے خصوصی طور پر جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے جان و مال کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔

حسنین مسعودی نے کہا کہ کشمیر حالات سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا ایوان میں اس معاملے پر خصوصی بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آئے روز کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہو رہا ہے اور بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔


غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر کی راجدھانی سری نگر کے مضافات میں کل شام بھی ملی ٹنٹوں نے پولیس کی ایک بس پر حملہ کیا جس میں3 پولیس اہلکار شہید اور 12 جوان زخمی ہوئے تھے۔ جیش محمد سے وابستہ ایک دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔