’ہندو راشٹر‘ کے سوال پر اشوک گہلوت نے سامنے رکھ دی پاکستان کی مثال

راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذہب کی بنیاد پر بنا ملک پاکستان دو ملکوں میں ٹوٹ گیا، مذہب کے نام پر بننے والا کوئی بھی ملک متحد نہیں رہ سکتا۔‘‘

اشوک گہلوت، تصویر ٹوئٹر @ashokgehlot51
اشوک گہلوت، تصویر ٹوئٹر @ashokgehlot51
user

تنویر

ہندوستان کو ’ہندو راشٹر‘ بنانے کا مطالبہ شدت پسند ہندوتوا تنظیموں کے ذریعہ لگاتار ہو رہا ہے، لیکن اپوزیشن پارٹیاں اور سماجی کارکنان ملک کی سیکولر شبیہ کو مضبوط بنانے کے لیے ان مطالبات کے خلاف زوردار آواز بھی اٹھاتے رہے ہیں۔ اس درمیان 16 دسمبر کو راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ’ہندو راشٹر‘ کے بارے میں اپنا نظریہ سامنے رکھتے ہوئے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’مذہب کی بنیاد پر بنا ملک پاکستان دو ملکوں میں ٹوٹ گیا۔ مذہب کے نام پر بننے والا کوئی بھی ملک متحد نہیں رہ سکتا ہے۔‘‘

دراصل اشوک گہلوت 1971 کی ہند-پاک میں ہندوستان کی تاریخی فتح کے 50 سال مکمل ہونے پر منعقد ایک پروگرام کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ پاکستان مذہب کے نام پر بنا تھا، لیکن پھر بھی وہ ایک نہیں رہ پایا اور اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ مذہب کے نام پر ملک بن تو سکتا ہے، لیکن ملک قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کی مثال پاکستان کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔


اشوک گہلوت نے کہا کہ آپ اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی بات کرتے ہو، مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی بات کرتے ہو، کیا اتنے بڑے ملک میں یہ ممکن ہے؟ ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ دنیا کا سپر پاور کہا جانے والا روس بھی 16 ٹکڑوں میں منقسم ہو گیا۔ اس لیے مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ایک مذہب کے نام پر ملک بن بھی جاتا ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہتا۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اشوک گہلوت نے یہ بھی کہا کہ آج ملک میں لگتا ہے ایسا ماحول بن گیا ہے کہ مذہب کے نام پر ہی باتیں کی جاتی ہیں۔ ہندوتوا اور ہندو راشٹر کی باتیں عام ہو گئی ہیں۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایسے میں ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔ اس ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ہماری دشمنی کسی سے نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔