گوا: سابق وزیر نے چھوڑا بی جے پی کا ساتھ، پارٹی پر اصولوں کو بھولنے کا لگایا الزام

گوا کی سابق وزیر برائے جنگلات اور ب جے پی کی موجودہ رکن اسمبلی علینا سلدانہا نے جمعرات کو پارٹی قیادت پر اصولوں کو بھولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے رکن اسمبلی عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔

علینا سلدانہا، تصویر آئی اے این ایس
علینا سلدانہا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

گوا کی سابق وزیر برائے جنگلات اور بی جے پی کی موجودہ رکن اسمبلی علینا سلدانہا نے جمعرات کو پارٹی قیادت پر اصولوں کو بھولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے رکن اسمبلی عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ انھوں نے اسمبلی اسپیکر راجیش پاٹنیکر کو اپنا استعفیٰ سونپا۔ سلدانہا ایسا کرنے والی ریاست اسمبلی کی پہلی بی جے پی رکن اسمبلی ہیں۔

علینا نے کہا کہ ’’میں نے استعفیٰ دے دیا ہے اور میں نے جائز وجوہات سے استعفیٰ دیا ہے۔ میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ جس پارٹی میں آنجہانی متھانی سلدانہا شامل ہوئے تھے اور ان کے انتقال کے بعد میں نے ان کی جگہ پر قدم رکھا، ایسا لگتا ہے کہ پارٹی اپنے سبھی اصولوں کو بھول گئی ہے اور ریاست میں بدحالی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ پارٹی میں کون آ رہا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کون پارٹی سے باہر جا رہا ہے۔‘‘


علینا 2012 میں کورٹالم اسمبلی حلقہ سے ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنے شوہر اور مشہور ماہر ماحولیات متھانی کی جگہ لی، جن کا اس سال انتقال ہو گیا تھا۔ وہ بی جے پی رکن اسمبلی اور وزیر سیاحت کی شکل میں ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر میں آج یہاں ہوں، تو یہ آنجہانی متھانی سلدانہا (ایم ایس) کی وجہ سے ہے، جن کا دل کا دورہ پڑنے پر انتقال ہو گیا۔ انھوں نے بی جے پی رکن اسمبلی کی شکل میں سخت محنت کی۔‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ استعفیٰ دے رہی ہیں، کیونکہ بی جے پی نے انھیں کورٹالم انتخابی حلقہ کے لیے اسمبلی انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ کی یقین دہانی نہیں کرائی ہے، سلدانہا نے کہا کہ ’’مجھے نہیں پتہ، پارٹی نے مجھے ابھی تک مطلع نہیں کیا ہے۔ میں نے بہت کچھ سنا ہے، لیکن پارٹی نے مجھے مطلع نہیں کیا ہے۔‘‘


عام آدمی پارٹی میں شمولیت کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے علینا نے کہا کہ انھوں نے اپنے فوری سیاسی مستقبل پر فی الحال کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے، رابطہ میں کئی پارٹیاں ہیں۔ میں جلد بازی میں کچھ نہیں کروں گی۔ میں اپنے انتخابی حلقہ کے لوگوں سے صلاح لوں گی اور اسی کے مطابق میں فیصلہ کروں گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔