اومیکرون کا پھیلاؤ: دہلی میں 4 اور گجرات میں ایک نیا معاملہ، اب تک 78 کیسز کی تصدیق

قومی راجدھانی دہلی میں اومیکرون کا خطرہ گہراتا جا رہا ہے، جمعرات کو یہاں 4 نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی، مجموعی طور پر راجدھانی میں اب تک 10 مریضوں کی تصدیق کی جا چکی ہے

اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: جنوبی افریقہ میں سب سے پہلے پائے جانے والے کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کا ہندوستان میں لگاتار پھیلاؤ ہو رہا ہے۔ راجدھانی دہلی میں جمعرات کے روز اومیکرون کے 4 نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی۔ اس کے ساتھ دہلی میں اومیکرون سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 10 تک پہنچ گئی ہے۔ دہلی کے علاوہ گجرات میں بھی اومیکرون کے ایک نئے معاملہ کی تصدیق کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ ہندوستان میں اومیکرون کے پہلے معاملہ کی تصدیق 2 دسمبر کو کرناٹک میں کی گئی تھی۔ اس وقت سے اب تک ملک کی 11 ریاستوں میں اومیکروں کا پھیلاؤ ہو چکا ہے۔ ملک بھر میں اومیکرون کے کیسز کی مجموعی تعداد 78 ہو چکی ہے۔ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 32 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے، راجستھان میں 17 مریض پائے گئے ہیں جبکہ دہلی فی الحال تیسرے مقام پر ہے۔


گجرات میں اومیکرون کے ایک نئے معاملہ کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں اومیکرون کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 5 ہو گئی ہے۔ اومیکرون کے اس کیس کی تصدیق بیجاپور میں کی گئی ہے، جہاں ایک خاتون نئے ویرینٹ سے متاثر پائی گئی ہے۔ اس خاتون نے حال ہی میں سفر نہیں کیا تھا، تاہم وہ ایک رشتہ دار کی موت میں شامل ہوئی تھی، جس میں زمبابوے سے لوٹا ایک شخص بھی شامل ہوا تھا۔ خدشہ ہے کہ اس کے رابطہ میں آنے کے سبب خاتون متاثر ہوئی گی۔

دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین نے بتایا کہ راجدھانی میں اب اومیکرون کے متاثرین کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ ایک مریض شفایاب ہو چکا ہے۔ راجدھانی کے ایل این جے پی اسپتال میں تاحال 9 مریض داخل ہیں۔ راحت کی بات یہ ہے کہ کسی بھی مریض میں بیماری کی سنگین علامات ظاہر نہیں ہو رہی ہیں۔


تاحال مہاراشٹر میں اومیکرون کے 32، راجستھان میں 17، دہلی میں 10، کیرالہ اور گجرات میں 5-5، کرناٹک میں 3، تلنگانہ میں 2 معاملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ جبکہ آندھرا پردیش، چنڈی گڑھ، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں ایک ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔