کسانوں کی جدوجہد کا تذکرہ سنہرے حروف میں ہوگا، انتخاب لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں: راکیش ٹکیت

بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ کسانوں کی جدوجہد کا تذکرہ سنہرے حروف میں ہوگا اور میں آخری سانس تک کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا۔

راکیش ٹکیت، تصویر یو این آئی
راکیش ٹکیت، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) ترجمان راکیش ٹکیت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کسانوں کی جدوجہد کا تذکرہ سنہرے حروف میں کیا جائے گا۔ راکیش ٹکیت نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کا انتخاب لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور لوگوں کو سیاسی ہورڈنگز پر اپنی تصویروں کا استعمال کرنے کے لیے منع بھی کیا ہے۔

بدھ کی دیر شب اپنے ایک بیان میں راکیش ٹکیت نے واضح لفظوں میں کہا کہ میرا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ گاؤں سسولی میں کسانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دے رہے تھے۔ وہ کسان تحریک کے 383 دنوں بعد دھرنا ختم کر سسولی واقع اپنے گھر لوٹے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’ہماری جدوجہد کا تذکرہ سنہرے الفاظ میں کیا جائے گا۔ میں آخری سانس تک کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا۔‘‘ ٹکیت اپنے حامیوں کے ایک بڑے جلوس میں سسولی پہنچے اور پورے راستے ان پر پھولوں کی بارش کی گئی۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق میرٹھ-مظفر نگر شاہراہ پر ہر چوراہے پر لڈو تقسیم کیے گئے اور غازی پور سرحد سے مظفر نگر تک ہر 25 کلومیٹر پر لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ ٹکیت کی بیوی سنیتا دیوی نے جاٹ کالونی واقع اپنے گھر میں ان کا استقبال کرنے کے لیے سینکڑوں دیئے جلائے۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’میرے شوہر آج 383 دنوں کے بعد گھر آ رہے ہیں۔ میں ان کے استقبال میں چاہے جتنے بھی دیئے جلاؤں، وہ کم ہوں گے۔ جیسے بھگوان رام ایودھیا واپس آئے، میرے رام آج گھر آ رہے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ کسان تحریک شروع ہونے کے بعد سے ٹکیت گھر نہیں گئے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔