کلین چٹ کے باوجود برخاست کیے جانے پر کفیل خان نے کہا ’سپریم کورٹ جاؤں گا، آخری سانس تک لڑوں گا‘

یوگی حکومت کے ذریعہ برخاست کیے جانے پر بی آر ڈی میڈیکل کالج میں کام کر چکے ڈاکٹر کفیل خان نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ چیلنج کریں گے اور انصاف کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

یوگی حکومت کے ذریعہ برخاست کیے جانے پر ڈاکٹر کفیل خان نے اپنا پہلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اصل قصورواروں کو بچانے کے لیے انھیں ’بلی کا بکرا‘ بنایا جا رہا ہے۔ ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے بات چیت میں کفیل خان نے کہا کہ انصاف کے لیے وہ آخری انس تک لڑتے رہیں گے۔ ڈاکٹر کفیل خان پر یوگی حکومت نے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں 2017 میں ہوئی بچوں کی موت کا الزام لگایا ہے۔ وہ گزشتہ چار سال سے معطل ہیں اور انھیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔

ڈاکٹر کفیل خان نے کہا کہ ’’مجھے میری ملازمت واپس چاہیے اور کوئی بھی اسے مجھ سے نہیں چھین سکتا۔‘‘ برخاستگی کی خبر سن کر کفیل خان کی آنکھیں نم ہو گئیں، اور انھوں نے کہا کہ انھیں ابھی کاغذات نہیں ملے ہیں، یکن وہ انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’’میں اپنے ساتھ ہی متاثرین کے لیے بھی لڑوں گا۔ ان والدین کے لیے لڑوں گا جن کے بچے آکسیجن کی کمی کے سبب موت کے منھ میں چلے گئے۔ وہ بھی آج تک انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘


واضح رہے کہ 2017 میں گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی کے سبب ان 60 بچوں کی موت ہو گئی تھی جو ایکیوٹ انسفلائٹس سنڈروم سے متاثر تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 بچوں کی تو پہلے 48 گھنٹے میں ہی ہو گئی تھی، وہیں 17 بچوں کی جان نیو نیٹل وارڈ میں گئی تھی۔ کفیل خان اس وقت محکمہ امراض اطفال میں تعینات تھے۔ انھوں نے اس سلسلے میں حکومت اور افسران کو 10 صفحات کا خط بھی لکھا تھا، لیکن بی جے پی کی قیادت والی یوگی حکومت نے انھیں ہی سزا دے دی۔

کفیل خان نے اسمبلی انتخاب سے عین قبل ان کی برخاستگی کو انتخابی ہتھکنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ اور اتر پردیش کے وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن اشوک ٹنڈن اصلی قصوروار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں 9 لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا، لیکن باقی 8 کو واپس ملازمت پر رکھ لیا گیا ہے، صرف انھیں ہی برخاست کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں تو مختلف جانچ میں کلین چٹ مل چکی ہے، پھر بھی ان کی برخاستگی کیوں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صرف اپنے ووٹروں کو پیغام دینے کے لیے انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ کفیل خان نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں برخاستگی کو چیلنج کریں گے۔


واضح رہے کہ آکسیجن فراہمی میں رکاوٹ کی بات ماننے کے باوجود یوگی حکومت نے اعتراف نہیں کیا ہے کہ کسی بچے کی موت آکسیجن کی کمی سے ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں یوگی حکومت کے اس وقت کے وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’’ان دو گھنٹوں میں آکسیجن کی زبردست قلت تھی، لیکن انتظامیہ نے آکسیجن سلنڈر کا انتظام کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔‘‘ جب کہ میڈیا رپورٹ بتاتی ہے کہ آکسیجن کی کمی اس لیے ہوئی کہ ایک نجی سپلایر نے ادائیگی نہ ہونے کے سبب اسپتال کو آکسیجن کی سپلائی بند کر دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔