کانگریس اقلیتی شعبہ کے زیر اہتمام مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش پر قومی سمینار کا انعقاد

کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جہاں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی تمام طبقے کے لوگ ساتھ مل جل کر رہ سکیں۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے زیر اہتمام آج ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے 133 ویں یوم پیدائش کے موقع پر نئی دہلی کے جواہر بھون میں قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر سابق پروفیسر و مصنف رام پنیانی، راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ محسنہ قدوائی،ریاستی کانگریس انچارج و ممبر پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل، معروف مؤرخ و مصنف اشوک کمار پانڈے، آل انڈیا خاتون کانگریس کی صدر نیتا ڈیسوزا اور ریاستی کانگریس صدر چودھری انل کمار موجود تھے جہنوں نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی ہندوستان کی آزادی و قومی یکجہتی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا۔

اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی نے تمام مہمانوں کا گلدستہ پیش کر والہانہ استقبال کیا۔اس دوران عمران پرتاپ گڑھی نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نہ صرف ملک کے پہلے وزیر تعلیم تھے بلکہ وہ قومی یکجہتی کے علمبردار بھی تھے جنہوں نے ہمیشہ ملک کے اتحاد و سالمیت قائم کرنے پر زور دیا، ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں آج ملک بھر میں کانگریس کے اقلیتی شعبہ کی جانب سے مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں تاکہ نئی نسل کو ان کے سیکولر خیالات سے وابستہ کیا جاسکے اور یہی ان کو حقیقی خراج عقیدت پیش ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جو ملک کے حالات ہیں اور جو لوگ ملک میں برسر اقتدار ہیں وہ یہ سوال کرتے ہیں گزشتہ 70 سال کے دوران آپ نے کیا۔ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے اپنے اسلاف کے وطن عزیز کی خاطر دی گئی بڑی بڑی قربانیوں اور خدمات کو اعلانیہ طور پر بتانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد ایسے ہندوستان کا خواب دیکھتے تھے جہاں ہندو، مسلم سکھ، عیسائی تمام طبقے کے لوگ ساتھ مل جل کر رہ سکیں۔


اس موقع پر مؤرخ و مصنف اشوک کمار پانڈے نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان میں ہندو مسلم اتحاد کو مظبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی نظیر نہ ملی ہے اور نہ ہی صدیوں تک مل پائے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مولانا ابوالکلام آزاد کے فکر و خیالات اور ہندو مسلم اتحاد کو اپنا کرہی ملک میں امن امان کی فضاءقائم کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا آزاد متعدد خوبیوں کے مالک تھے انہوں نے اپنے قلم کے ذریعہ انگریزوں سے لوہا لیا۔ انہوں نے 1914 میں الحال نامی اخبار نکالا جس کے ذریعے مولانا ابوالکلام آزاد نے انگریزوں کے ظلم وزیادتی کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی جس کے بعد برطانیہ حکومت نے اس اخبار پر پابندی عائد کر جیل بھیج دیا۔مولانا نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی مگر انگریزوں سے معافی نہیں مانگی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی اور مولانا آزاد نے ہندوستان کی ایسی بنیاد رکھی تھی جس نے فرقہ پرستوں کو منہ پر زور دار تمانچہ رسید کیا تھا، تاہم موجودہ دور میں ایک مرتبہ پھیر ایک خاص فکر کو ہرانے کے لیے ہمیں مولانا آزاد اور گاندھی کے اصولوں کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے۔

محسنہ قدوائی نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مگر ان کی تحریر کردہ کتابیں پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف مسلمان بلکہ پورے ملک کے رہمنا تھے جو سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد نے ہندو مسلم کی قومی یکجہتی کی ڈور کو محبت کے موتیوں میں پرویا تھا اس ڈور کی موجودہ دور میں توڑنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے قومی یکجہتی کے لئے جو نظریہ پیش کیا تھا اس نے ہندوستان کو گلستاں بنانے کا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نفرت کا جذبہ انسانیت ہو ختم کردیا ہے اس لیے ہمیں نفرت کے متحد ہونا ہے۔انہون نے مزید کہ نوجوان آنے والے ہندوستان کا مستقبل ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ سابق مرکزی وزیر پنون کمار بنسل نے کہا کہ ساورکر اور جناح کے نظریات نے اپنے دور میں جس آگ کو پھیلانے کا کام کیا تھا اس کا درد مولانا آزاد کی باتوں میں صاف طور پر دکھائی دیتا ہے۔خود کو ہندوستان کے مسلمانوں مسییحا کہنے والے سب سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے،جںکہ جواہر لال نہرو، مولانا آزاد اور مولانا مدنی جیسے سیکولر خیالات رکھنے والے رہنماﺅں نے احساس دلایا یہ ملک تمھارا ہی ہے اور تم یہاں ہی رہوگے۔پروفیسر رام پنیا نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے پیغامات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جو ہندو مسلم اتحاد کو مزید مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سماج میں وہی لوگ نفرت پیدا کرتے ہیں جو سیاست میں خدمت نہیں بلکہ کرسی کے خاطر اقتدار میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نفرت کے اس دور میں اگر مولانا آزاد زندہ ہوتے تو وہ یہ پیغام دیتے کہ ہندو مسلم کے درمیان جو خلا پیدا ہوگئی ہے اس کو دور کرنے کے لیے محبت کا پل بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں مولانا آزاد کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرنی ہے تو ان کے خیالات کو ہر طبقہ تک پہنچنا ہماری ذمہ داری ہے۔شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ مولانا آزاد اور محمد علی جناح دونوں ہی اپنے دور اہم رہنما تھے، مولانا ابولکلام آزاد پاکستان کے قیام کے شدید مخالف تھے جبکہ دوسری جانب محمد علی جناح تھے جن کی سیاست صرف پاکستان کے قیام کی کوششوں کے گرد گھومتی تھی۔ تاہم مولانا آزاد نے ایسے وقت میں بھائی چارے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ مولانا آزاد سیکولر تھے اور نفرت کی سیاست کو وہ نا پسند کرتے تھے، آج جو فکر ملک میں نفرت کا زہر گھول رہی ہے اس کو ہرانے کا کام ہم سب کو کرنا ہے۔


سمینار کے اختتام پذیر ہونے کے بعد میں تمام لیڈران نے جامع مسجد پر واقع مولانا ابو لکلام آزاد کے مزار پر گل پوشی اور فاتحہ خوانی کی۔تقریب میں کانگریس کے سابق وزیر ہارون یوسف، سابق ایم ایل اے چودھری متین احمد،آل انڈیا کانگریس اقلیتی شعبہ کے جنرل سیکرٹری فرحان اعظمی کے علاوہ کثیر تعداد میں کانگریس کارکنان موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔