منریگا بچاؤ مارچ پر پولیس بربریت: این ایس یو آئی صدر ورن چودھری کا دو ٹوک اعلان- ’نہ جھکیں گے، نہ رکیں گے‘
این ایس یو آئی نے وارانسی میں منریگا بچاؤ مارچ کے دوران پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج پر لاٹھی چارج، گرفتاریاں اور جھوٹے مقدمات جمہوریت اور روزگار کے حق پر حملہ ہیں

نئی دہلی: کانگریس کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے وارانسی میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے احاطے میں منعقدہ منریگا بچاؤ مارچ کے دوران پولیس کارروائی کو جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج کے باوجود اتر پردیش پولیس نے طاقت کا بے جا استعمال کیا، جس میں لاٹھی چارج، اجتماعی گرفتاریاں اور جھوٹے مقدمات شامل ہیں۔
این ایس یو آئی کے مطابق وارانسی میں منریگا کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف نکالے گئے اس مارچ کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کی گئی تھی، اس کے باوجود پولیس نے سخت کارروائی کی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قومی صدر ورون چودھری سمیت کم از کم 35 طلبہ کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد دیگر طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر کے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔ پولیس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 100 طلبہ اور این ایس یو آئی کے عہدیدار زخمی ہوئے۔
ورون چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ منریگا ملک کے محروم طبقات، دلتوں، آدیواسیوں، قبائلی برادریوں اور پسماندہ طبقات کے لیے زندگی کی ایک اہم بنیاد ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت ان طبقات کے روزگار کے آئینی حق پر براہ راست حملہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایس یو آئی اس دباؤ کے سامنے نہ جھکے گی اور نہ ہی خوفزدہ ہوگی، بلکہ ملک بھر میں جدوجہد جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ وارانسی میں ہونے والے احتجاج کی تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت طلبہ کے پُرامن احتجاج سے بھی خوفزدہ ہے اور اسی خوف کے تحت طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ورون چودھری کے مطابق یہ معاملہ صرف ان کے ساتھ یا این ایس یو آئی کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والی پولیس کارروائی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اتر پردیش میں عام شہریوں کو درپیش روزمرہ جبر کی عکاسی کرتا ہے۔
این ایس یو آئی نے الزام لگایا کہ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے بعد طلبہ رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بھی درج کیے گئے، جس کا مقصد طلبہ تحریک کو دبانا اور اختلاف کی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔ تنظیم نے اسے ریاستی طاقت کے غلط استعمال کی مثال قرار دیا۔
این ایس یو آئی نے واضح کیا ہے کہ وہ پولیس بربریت اور ریاستی جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور منریگا پر منحصر کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی کے تحفظ کے لیے ملک گیر تحریک کو مزید تیز کرے گی۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اس ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے جو طلبہ، نوجوانوں اور بہوجن طبقات کی آوازوں سے خوفزدہ ہے اور آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔