رحم کی درخواست کے تصفیہ کے لئے وقت کی حد مقرر کرنے کے مطالبہ پر مرکز کو نوٹس

بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ صدر کو ہدایت جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت کی سماعت اس نہج پر ہوگی کہ وزارت داخلہ کس طرح سے اور کس وقت مقررہ میں صدر کو رحم کی درخواست بھیجتی ہے۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

عمران خان میواتی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا والے معاملوں میں رحم کی درخواست کے تصفیے کے لئے وقت کی حد مقرر کیے جانے سے متعلق درخواست پر مرکزی وزارت داخلہ سے بدھ کو جواب طلب کیاہے۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپنا اور ہریشکیش رائے کی بنچ نے شیوکمار ترپاٹھی کی درخواست پر وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔

اعلیٰ عدالت نے مرکز کو نوٹس کے جواب کے لئے چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ سماعت کے دوران اعلیٰ عدالت نے جاننا چاہا کہ کیا صدر کے سامنے رحم کی درخواست بھیجنے سے متعلق وزارت داخلہ کے لئے کوئی طے شدہ وقت مقرر ہے؟ اس پر سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت سے ہدایت لے کر بنچ کے سامنے حاضر ہوں گے۔

بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ صدر کو ہدایت جاری نہیں کر سکتی۔ عدالت کی سماعت اس نہج پر ہوگی کہ وزارت داخلہ کس طرح سے اور کس وقت مقررہ میں صدر کو رحم کی درخواست بھیجتی ہے۔ درخواست گزار نے وکیل کمل گپتا کے ذریعہ درخواست دائر کی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پھانسی کی سزا کو ٹالنے کے لئے مجرم کو ملے آئینی قانونی حقوق کے تحت اپنے بچاؤ میں رحم کی درخواست دائر کرتا ہے، مگر رحم کی درخواست کا تصفیہ کرنے کے لئے کوئی بھی وقت کی حد متعین نہیں کی گئی ہے۔ جس سے رحم کی درخواست سالوں تک کبھی لیفٹیننٹ گورنر کے پاس تو کبھی صدر کے پاس زیرالتوا رہتی ہے اور آخر کار رحم کی درخواست کے تصفیے میں تاخیر کے نام پر مجرم کی پھانسی کی سزا عمرقید میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next