ندائے حق: ہندوستانی مسلمان، مسائل اور ممکنہ حل... اسد مرزا

موجودہ حالات میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ ملی اتحاد اور قوم کو ایک نئی شکل میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

Getty Images
Getty Images
user

اسد مرزا

(قسط دوم)

مشترکہ مسلم شناخت

ہندوستانی مسلمان ایک قوم کی حیثیت سے اپنی ایک مشترکہ مسلم شناخت نہیں رکھتے ہیں۔ وہ کئی فرقوں میں منقسم ہیں اور کوئی بھی فرقہ دوسرے کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کے برخلاف باوجود طبقاتی تقسیم کے ملک کی دیگر اقلیتوں جیسے سکھوں اور پارسیوں میں برادری کا اتحاد واضح نظر آتا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمیں دیگر اقلیتوں سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح وہ بحیثیت قوم یا برادری متحد ہیں اور کس طرح مسلمان آپسی اتحاد قائم کر کے انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کے ذریعے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر مسلمان کو برادری کی ترقی اور ہماری زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے مالیاتی و مادی دونوں میں تعاون کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

یہ سب کچھ کہنے کے لئے بہت آسان ہے، لیکن عملی طور پر کرنا بہت مشکل ہے۔ سوال پھر بھی برقرار ہے کہ کون ہے جو اس کو کر دکھائے گا اور کب ؟ اس سوال کا جواب ہمارے مذہبی قائدین کے پاس ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ہنوز ہمارے علماء کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے اور ان کے بیانات کے مطابق کام کرتا ہے لیکن اکثر جو بیانات دیئے جاتے ہیں وہ وقت کے اعتبار سے موزوں نہیں ہوتے اور نہ ہی مسلمانوں کی ترقی و ترویج میں کسی طرح سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے علماء اور مشائخین کو قرآن و حدیث کی تعلیمات کو موجودہ مسائل کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تب ہی موجودہ نسل ان تعلیمات کی اہمیت کو سمجھے گی۔ اس مقصد کے لئے ہر جمعہ کے خطبہ کو ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔


مسلم علماء کو سب سے پہلے جدید دور سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو درپیش اہم مسائل کا تنقیدی اور سائنسی انداز میں جائزہ لینے یا اجتہاد کے ذریعہ اس کی شروعات کی جاسکتی ہے۔ قدیم روایتوں اور بیانات پر تکیہ کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ ہر ایک مسئلہ کا موجودہ حالات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے اور مقدس قرآن مجید و حدیث کی تعلیمات کے مطابق ان کا حل پیش کیا جائے۔ مقدس قرآن مجید صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں زندگی کے ہر شعبہ ہائے حیات کے مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ضرورت صرف اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ہے۔

مسلمانوں کی تعلیمی تحریک

ہمارے پاس نئے تعلیمی ادارہ جات قائم کرنے کے لئے سرمایہ کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جبکہ اس کو حل کرنا بہت آسان ہے۔ اگر ہندوستانی مسلمان اپنے بینک کھاتوں سے حاصل ہونے والی سود کی رقم اور زکوٰۃ کو ایک مرکزی تنظیم کے پاس جمع کرنا شروع کر دیں، جس کی قیادت ملک کے مایہ ناز ملی اور سماجی اکابرین کے ہاتھوں میں ہو۔ وہ ان دونوں مدوں کو مختلف نظام کے تحت تعلیم، بیواؤں، یتیموں، قوم کے اسپتال اور دیگر سہولیات مہیا کرانے کے لیے صرف کرنے کی مجاز ہو تو اس منصوبے کے ذریعے قوم کی تقدیر اور تصویر دونوں ہی بدل سکتی ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے آئندہ پانچ برسوں میں قوم کی صورت بالکل ہی بدل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم ملک کے دیگر عقائد رکھنے والوں کے سامنے برادری کی ایک نئی اور جدید امیج پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔


مسلمان اور میڈیا

جب ملک میں یا دنیا کے کسی بھی علاقہ میں اسلاموفوبیا کی لہر اٹھتی ہے تو ہم خاموش ہوجاتے ہیں لیکن ہم کس طرح اس مسئلہ سے نمٹیں گے؟ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں کئی جنگیں سوشل میڈیا کے ذریعہ لڑی اور جیتی گئی ہیں۔ اس کی تازہ مثال سوشل میڈیا پر اسلاموفوبیا کے بیانات اور مسلم ممالک کی جانب سے اس کا جواب ہیں۔ مسلم ممالک کے غیرمعمولی ردعمل کی وجہ سے کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس نے اس طرح کے پیامات کو شیئر کرنے سے روکنے کے لئے رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ان بیانات کو فوری ہٹانے کے علاوہ مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس پر اسلاموفوبیا مواد پوسٹ کرنے والوں کو معافی مانگنے پر مجبور بھی کیا گیا ہے۔

سب سے پہلے بہتر ہوگا کہ مسلمان خود کو جانبدارانہ اور فرضی خبروں کا جواب دینے کے لئے تیار کریں۔ اس کے لیے ایک جامع جواب دینے والا میکانزم تیار کیا جانا چاہیے جو مسلم قوم کی بہتر طور پر نمائندگی کرسکے اور اس نظم کو قائم کرنے کے لیے زیادہ رقم بھی درکار نہیں ہوگی۔


اس سلسلہ میں پہلا قدم ایک نگراں ٹیم (Monitoring Team)کی تشکیل ہوگی، جو تمام ہندوستانی اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مسلم مخالف خبروں پر نظر رکھے۔ یہ ٹیم حقائق کا پتہ چلانے والی ٹیم (Fact Checking Team) کی مدد کرے، جو تحقیق اور پیام رسانی کی بہتر صلاحیت رکھتی ہو تاکہ مسلمانوں کے تعلق سے کسی بھی قسم کے جھوٹے پروپیگنڈہ کا مناسب اور پیشہ ورانہ طریقہ سے جواب دیا جاسکے۔ میڈیا نگراں کاروں کی مرکزی ٹیم کو دہلی میں مقیم ہونا چاہیے جو مختلف ریاستوں کے نگراں کاروں سے رابطہ میں رہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس اپ پر ہر مسئلہ، الزام یا غلط نمائندگی پر مدلل جوابات دینے کے لئے حقائق کی بنیاد پر تیز رفتاری کے ساتھ کام کرنے کے اہل ہوں۔

اس کے بعد قوم کے ترجمانوں کا ایک گروپ منتخب کیا جائے اور انہیں ان ریاستوں کی زبانوں میں تربیت دی جائے جہاں وہ رہتے ہیں تاکہ وہ ریاستی ذرائع ابلاغ میں زیادہ با اثر ہوسکیں۔ انہیں لسانی طور پر بحث کی صلاحیت میں ماہر بناتے ہوئے کسی بھی مسئلہ یا موضوع پر بحث میں حصہ لینے اور اپنے مدمقابل سے مدلل بات چیت کرنے کے قابل بنایا جائے۔ ہر ریاست میں کم سے کم 5 افراد پر مشتمل ترجمانوں کی ایک ٹیم ہونی چاہیے جو مسلمانوں کی میڈیا میں رہنمائی کرسکے۔


مختلف ذرائع ابلاغ میں برادری کی نمائندگی کے لئے معلومات رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دینا چاہیے۔ اس پینل کی جانب سے جو بھی اظہار خیال کیا جائے، اس کی تصدیق علماء اور سماجی قائدین کی جانب سے پہلے سے ہونی چاہیے۔ یہ سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے لیکن سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہ کام متحدہ اور اجتماعی طور پر کیا جائے۔ مسلمانوں کے مختلف طبقات اور فرقوں کی نمائندگی کرنے والے مختلف قائدین جب تک متحد نہیں ہوں گے تب تک یہ ممکن نہیں ہے۔ مختلف مکاتب فکر رکھنے والی تنظیموں، اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں ماہرین تعلیم، محققین، نظریہ سازوں، تاجروں، صنعت کاروں، کارکنوں اور زمینی سطح پر کام کرنے والے سرگرم لوگوں کا ایک پینل بنانا چاہیے، جنہیں برادری کے حقیقی چہرے کے طور پر پیش کیا جاسکے۔

علاوہ ازیں بہتر ہوگا کہ مسلم برادری موجودہ حالات میں الجھنے کے بجائے اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو تلاش کرے جس نے اسے اب تک کمزور رکھا ہے۔ مسلمانوں کو خود کو ملک کے اصل دھارے سے جوڑنے کے لئے تیار کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ اس کے لئے ایک مستحکم منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ 25 سال بعد جب ہم ملک کی آزادی کی 100 ویں سالگرہ منا رہے ہوں تو ہم فخر کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ ہم وہ قوم ہیں جس نے اپنے ماننے والوں اور ملک کی خواہشات کی تکمیل کی ہے۔ ہمیں ایک صاف اور واضح منصوبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان پروگراموں کو تیار کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے پختہ ارادہ کی ضرورت ہے جو برادری کو اس دلدل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرسکیں۔ جب تک مسلمان اجتماعی طور پر اپنے آپ کو بدلنے کا فیصلہ نہیں کرتے اور اصلاح کی کوشش نہیں کرتے تب تک کوئی بھی اس برادری کو ان حالات سے نکالنے میں مدد گار نہیں ہوسکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 14 Feb 2021, 8:11 PM