’نیشنل کلین ایئر پروگرام اب کاغذی بن کر رہ گیا‘، آلودگی معاملہ پر کانگریس نے حکومت پر کیا تلخ حملہ
جئے رام رمیش نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’سنٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) کے ایک نئے سروے نے اس سچائی کی تصدیق کی ہے کہ ہوا کا معیار پورے ملک میں ایک ساختیاتی بحران ہے۔‘‘

کانگریس نے فضائی آلودگی کے معاملہ پر مرکزی حکومت کو آج تلخ انداز میں ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا ہے کہ ’نیشنل کلین ایئر پروگرام‘ (این سی اے پی) اب ’نوشنل‘ کلیئر ایئر پروگرام، یعنی کاغذی بن کر رہ گیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے اتوار کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’سنٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) کے ایک نئے سروے نے اس سچائی کی تصدیق کی ہے کہ ہوا کا معیار پورے ملک میں ایک ساختیاتی بحران ہے اور اس پر حکومت کا رد عمل بے حد بے اثر اور ناکافی ہے۔‘‘
سیٹلائٹ ڈاٹا کی بنیاد پر سی آر ای اے کی طرف سے کے گئے اس مطالعہ میں سامنے آیا ہے کہ ہندوستان کے تقریباً 44 فیصد شہر (جائزہ میں شامل 4041 شہروں میں سے 1787 شہر) سنگین طور پر مستقل فضائی آلودگی کی زد میں ہیں۔ ان شہروں میں 5 سالوں کے دوران ہوا میں سالانہ ’پی ایم 2.5‘ کی سطح لگاتار قومی پیمانوںض سے اوپر بنی رہی ہے۔ اس حوالہ سے جئے رام رمیش نے کہا کہ جس ’این سی اے پی‘ کو نیشنل کلین ایئر پروگرام کی شکل میں مشتہر کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت میں ایک الگ ہی قسم کا این سی اے پی (نوشنل کلیئ ایئر پروگرام) بن گیا ہے۔ اب اس کے گہرائی سے تجزیہ، وسیع بہتری اور تشکیل نو کی سخت ضرورت ہے۔
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ سنگین فضائی آلودگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلا قدم یہ اعتراف کرنا ہونا چاہیے کہ ہندوستان کے بڑے حصوں میں فضائی آلودگی سے متعلق ایک سنگین عوامی صحت بحران موجود ہے۔ اسی بحران کو توجہ میں رکھتے ہوئے اب ’ایئر پالیوشن (کنٹرول اینڈ پریونشن) ایکٹ، 1981‘ اور نومبر 2009 میں نافذ کیے گئے ’نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈس‘ (این اے ے کیو ایس) کا پوری طرح سے از سر نو تجزیہ اور وسیع اصلاح کیا جانا ضروری ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ حکومت کو این سی اے پی کے تحت دستیاب کرائے جانے والے فنڈ میں بڑے پیمانہ پر اضافہ کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’’این سی اے پی کو 25 ہزار کروڑ روپے کا پروگرام بنایا جانا چاہیے اور اسے ملک کے سب سے زیادہ آلودہ 1000 شہروں و قصبوں تک وسعت دی جانی چاہیے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ این سی اے پی کو اپنی کارکردگی کا پیمانہ ’پی ایم 2.5‘ کی سطح کو بنانا چاہیے۔
جئے رام رمیش کے مطابق این سی اے پی کو قانونی بنیاد دینے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی توجہ کو اہم آلودگی والے ذرائع پر مرکوز کرنا چاہیے۔ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کہا کہ کوئلہ پر مبنی بجلی پلانٹس کے لیے طے فضائی آلودگی پیمانہ کو فوری اثر سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ سبھی بجلی پلانٹس میں سالانہ 2026 کے آخر تک ’فلو گیس ڈی سلفرائز‘ (ایف جی ڈی) لازمی طور سے قائم کیے جانے چاہئیں۔ علاوہ ازیں این جی ٹی کی خود مختاری کو بحال کیا جانا چاہیے اور گزشتہ 10 سالوں میں ماحولیاتی قوانین میں کی گئیں عوام مخالف ترامیم کو واپس لیا جانا چاہیے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اب تک پارلیمنٹ میں 2 مرتبہ (پہلی بار 29 جولائی 2024 کو اور دوسری بار 9 دسمبر 2025 کو) حکومت نے فضائی آلودگی کے صحت پر پڑنے والے اثرات کو کم تر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت حقیقت سے انجان نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی نااہلیت اور لاپروائی کے پیمانہ کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔