دیر رات لڑکی کو گھر پہنچانے کی مسلم نوجوان کو ملی سزا، ’لو جہاد‘ کا مقدمہ درج!

لڑکی اور اس کی ماں دونوں نے ہی ’لو جہاد‘ جیسے کسی بھی معاملہ سے انکار کیا ہے۔ لڑکی کی ماں کا کہنا ہے کہ ’’برتھ ڈے پارٹی سے میری بچی رات کو گھر آ رہی تھی۔ گاؤں والوں نے چور سمجھ کر جبراً پکڑ لیا۔‘‘

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

ایک خاص طبقہ کے استحصال کی علامت بنتے جا رہے اتر پردیش کے مشہور ’لو جہاد قانون‘ یعنی جبراً تبدیلی مذہب قانون کا انتہائی حیرت انگیز معاملہ بجنور میں پیش آیا ہے۔ بجنور کے دھام پور قصبہ میں ایک دلت لڑکی کو برتھ ڈے تقریب کے بعد اس کے مسلم دوست کے ذریعہ گھر موٹر سائیکل سے پہنچانا بے حد بھاری پڑ گیا۔ اس کی سزا کے طور پر نوجوان اور اس کے گھر والوں کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ بجنور کے سماجوادی پارٹی لیڈر خورشید منصوری کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے حکومت ایک خاص طبقہ کو اس قانون کے تحت پھنسائے جانے کے بہانے تلاش کر رہی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق دھام پور کے گاؤں بیرکھیڑا چوہان میں سونو عرف ثاقب پاس کے ہی گاؤں نصیر پور میں اپنے دوست کے یہاں برتھ ڈے پارٹی میں گیا تھا۔برتھ ڈے پارٹی میں محض 16 سال کی دلت لڑکی بھی پہنچی ہوئی تھی۔ گرام پردھان اسماعیل کے مطابق تقریب سے نکلنے کے بعد گھر جاتے وقت رات دس بجے کے قریب لڑکی کو گاؤں والوں نے راستے میں پکڑ لیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ ثاقب بھی تھا۔ وہیں سے پولس کو فون کر دیا گیا۔ ایسا کہا جا رہا ہے کہ ثاقب سے اس لڑکی کی دوستی تھی اور اسی بہانے پولس رات کو ہی سونو عرف ثاقب کو تھانہ لے گئی۔ پہلے تو ثاقب پر بیٹری چوری کا الزام عائد کیا گیا اور بعد میں لڑکی کے والد کی تحریر پر پولس نے ’لو جہاد‘ کی شکل دے کر 14 دسمبر کی رات کو سونو کے خلاف دفعہ 366/363 اور 18 پاکسو ایکٹ و (2)3 اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ دفعہ (1)5/3 اتر پردیش انسداد مذہب تبدیلی آرڈیننس 2020 کے تھت تھانہ دھام پور میں مقدمہ رجسٹرڈ کر جیل بھیج دیا گیا۔ اب مجسٹریٹ کے سامنے ہوئے بیان کے بعد لڑکی نے ان سب الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

دیر رات لڑکی کو گھر پہنچانے کی مسلم نوجوان کو ملی سزا، ’لو جہاد‘ کا مقدمہ درج!
دیر رات لڑکی کو گھر پہنچانے کی مسلم نوجوان کو ملی سزا، ’لو جہاد‘ کا مقدمہ درج!
دیر رات لڑکی کو گھر پہنچانے کی مسلم نوجوان کو ملی سزا، ’لو جہاد‘ کا مقدمہ درج!

قابل غور بات یہ ہے کہ لڑکی اور اس کی ماں دونوں نے ہی ’لو جہاد‘ جیسے کسی بھی معاملہ سے انکار کیا ہے۔ لڑکی کی ماں کا کہنا ہے کہ ’’برتھ ڈے پارٹی سے میری بچی رات کو گھر آ رہی تھی۔ گاؤں والوں نے چور سمجھ کر جبراً پکڑ لیا۔‘‘ ثاقب کی والدہ کا جہاں تک سوال ہے، تو اس کا کہنا ہے کہ وہ بعد میں گھر پہنچا تھا۔ اب لڑکا اور لڑکی دونوں کی ماں نے مذہب تبدیلی جیسی کسی بھی بات سے انکار کیا ہے۔ لڑکی کے والد نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس معاملہ میں خود کی فیملی کو سیاسی مہرا نہ بنانے کی اپیل کی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ لو جہاد معاملہ کو لے کر ایس پی (دیہی) سنجے کمار نے پہلے بتایا تھا کہ سونو عرف ثاقب نے اپنا نام بدل کر نابالغ لڑکی کو اپنے عشق کے جال میں پھنسا لیا اور اغوا کر کے لیے جانے کی کوشش میں تھا۔ مذہب تبدیلی جیسے سنگین دفعات لگا کر مقدمہ درج کر جیل بھیج دیا گیا، لیکن لڑکی کے اہل خانہ نے ایسے کسی واقعہ سے انکار کر دیا۔ اب اس معاملے میں اپنی پیٹھ تھپتھپانے والی پولس صفائی دے رہی ہے کہ انھوں نے تو سب کچھ لڑکی او راس کے والد کے بیان کی بنیاد پر کیا تھا، اب وہ بدل گئے ہیں۔

اس وقت مسلم نوجوان بجنور کی جیل میں بند ہے۔ اب جب کہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے سب سچ بیان کر دیا ہے تو لڑکے کو رہا کر دیا جائے گا۔ پولس کا دعویٰ ہے کہ لڑکی کے والد کی شکایت پر دھام پور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے ’’اس کے ساتھ شادی کرنے اور اسے بدلنے کے ارادے سے لڑکی کو اس کے ساتھ رہنے کے لیے تیار کیا۔‘‘ لیکن لڑکی کے والد نے متفقہ طور پر شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولس نے خود ہی سب کچھ لکھ لیا اور مجھے صرف بیان پڑھ کر سنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے۔ اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ اسے سیاست کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ اب ایک لڑکے اور لڑکی کا ایک ساتھ چلنا غیر قانونی ہے!‘‘

لڑکی نے اس بات سے صاف انکار کیا ہے کہ اسے کسی بھی چیز کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ گھر آ رہی تھی۔ لڑکی کہتی ہے کہ ’’میں نے اسے (مجسٹریٹ کو) بتایا ہے، اور میں یہ پھر سے کہوں گی کہ ان لوگوں کو میرے دوست کے ساتھ چلنے میں پریشانی تھی۔ یہ مقدمہ جھوٹا ہے اور اسے ختم کیا جانا چاہیے۔‘‘ لڑکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے ذہنی دباؤ میں ڈال کر وڈیو بنائے گئے تھے اور اب اسے ’لو جہاد‘ کہہ رہے ہیں۔ اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔‘‘

جہاں تک ثاقب عرف سونو کے عمر کی بات ہے، اس سلسلے میں الگ الگ طرح کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ پولس کا دعویٰ ہے کہ اس کی عمر 18 سال ہے، جب کہ ثاقب کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ 17 سال کا ہے۔ لڑکی بھی نابالغ بتائی جا رہی ہے۔ دھام پور تھانہ انچارج ارون کمار کا کہنا ہے کہ ’’ملزم عدالتی حراست میں تھا۔ اگر وہ نابالغ ہے تو کاغذ دکھانا چاہیے تھا۔ ہم نے لڑکی سے پوچھ تاچھ کی تھی اور اس کے والد کے بیان کے مطابق اس م عاملے میں مناسب دفعات لگائے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اب بدل گئے ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next