حکومت کی تنقید کرنا جرم نہیں، عدم اتفاق جمہوریت کی پہچان ہے: الٰہ آباد ہائی کورٹ

ایک تاریخی فیصلے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’ریاست میں نظام قانون کی حالت پر عدم اتفاق آئینی روادار جمہوریت کی پہچان ہے اور اسی چیز کو آئینی طور سے آئین کی شق 19 کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔‘‘

الہ آباد ہائی کورٹ، اتر پردیش / تصویر آئی اے این ایس
الہ آباد ہائی کورٹ، اتر پردیش / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے آج ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ریاست میں نظامِ قانون کی حالت پر عدم اتفاق کا اظہار ہمارے آئینی روادار جمہوریت کی شناخت ہے اور اسی چیز کو آئینی طور سے آئین کی شق 19 کے تحت محفوظ کیا گیا ہے۔‘‘ عدالت نے یہ تبصرہ ایک شخص کے خلاف داخل ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے کیا۔ دراصل اس شخص نے کہا تھا کہ ’’اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے ریاست کو جنگل راج میں بدل دیا ہے، جس میں کوئی قانون اور نظام نہیں ہے۔‘‘

دراصل یشونت سنگھ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف ایک تبصرہ کیا تھا۔ اسی سے متعلق یشونت کے ذریعہ داخل ایک عرضی کو منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ ایف آئی آر میں جن دو دفعات کے تحت جرم قائم کیے گئے ہیں، اس میں دور تک وہ جرم نظر نہیں آ رہا ہے۔

یشونت سنگھ پر ایف آئی آر گزشتہ 2 اگست 2020 کو کانپور دیہی ضلع کے بھوگنی پور پولس اسٹیشن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (امینڈمینٹ) ایکٹ کی دفعہ 500 (ہتک عزتی) اور 66 ڈی (کمپیوٹر وسائل کا استعمال کر کے شخص کے ذریعہ دھوکہ دہی کرنے کے جرم) کے تحت درج کی گئی تھی۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ سنگھ نے اپنے ٹوئٹ میں اغوا، تاوان اور قتل جیسے مختلف واقعات کا ذکر کیا۔

عرضی دہندہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے ایف آئی آر کو چیلنج پیش کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست کے معاملوں پر تبصرہ کرنے کا حق آئین کی شق 19 کے تحت درج اس کے آئینی حقوق کے اندر ہے۔ وکیل نے کہا کہ ’’عدم اتفاق جرم نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کے خلاف اپنے عدم اطمینان کے اظہار کرنے سے روکنے کے لیے عرضی دہندہ کے ساتھ زبردستی کرنے کے لیے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس لیے اس کے خلاف کوئی جرم نہیں بنتا ہے۔‘‘

عدالتی کارروائی کے دوران ریاست کی جانب سے پیش وکیل نے عرضی دہندہ کے وکیل کی باتوں کی مخالفت کی۔ پھر جسٹس پنکج نقوی اور جسٹس وویک اگروال کی بنچ نے کہا کہ ’’ہم ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کے تعلق سے مذکورہ سہولتوں کا جائزہ لینے کے بعد، دفعہ 66 ڈی کے تحت کوئی جرم نہیں پاتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 Dec 2020, 5:11 PM