مونگیر: پولیس کارروائی کے خلاف گاڑیاں جلا کر احتجاج، ایس پی اور ڈی ایم برطرف

الیکشن کمیشن نے ضلع کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ڈی ایم اور ایس پی کو برطرف کر دیا۔ اسی کے ساتھ اس پورے واقعہ کی ڈویزنل کمشنر مگدھ اسانگبا چوبے کی نگرانی میں جانچ کے بھی احکامات صادر کر دیئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: بہار کے مونگیر میں درگا کی مورتی وسرجن کے دوران ہونے والی فائرنگ کے معاملہ میں الیکشن کمیشن نے جمعرات کو کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایم اور ایس پی کو برطرف کر دیا ہے۔ کمیشن کی طرف سے یہ کارروائی لوگوں کے غم و غصہ کے پیش نظر کی گئی ہے۔ قبل ازیں، صبح کے وقت مشتعل لوگوں کے ہجوم نے ضلع صدر دفتر میں واقعہ ایس پی کے دفتر اور ایس ڈی او کی رہائش گاہ پر زبردست توڑ پھوڑ کی گئی۔ لوگوں نے احتجاجاً کئی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور تھانہ پر پتھراؤ بھی کیا۔

الیکشن کمیشن نے ضلع کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ڈی ایم اور ایس پی کو فوری اثر سے برطرف کر دیا۔ اسی کے ساتھ اس پورے واقعہ کی ڈویزنل کمشنر مگدھ اسانگبا چوبے کی نگرانی میں جانچ کے بھی احکامات صادر کر دیئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اگلے سات دنوں کے اندر جانچ مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ واضح رہے کہ بہار میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر صوبہ کے نظم و نسق کی ذمہ داری اس وقت الیکشن کمیشن پر ہے۔

واضح رہے کہ بہار کے مونگیر میں کوتوالی تھانہ علاقہ میں پیر کی شام مورتی وسرجن کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ جبکہ ایک شخص کی موت واقع ہوئی تھی۔ قریب 7 دیگر افراد پولیس کی فائرنگ سے زخمی بھی ہوئے تھے۔

مونگیر ضلع کی ایس پی لیپی سنگھ، جنہیں برطرف کیا گیا ہے، ان کا موازنہ جنرل ڈائر سے کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ظالم قسم کی افسر ہیں اور انہوں نے ہی جلیانوالا باغ کی طرز پر نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے اور لاٹھیاں برسانے کا حکم دیا تھا۔ خیال رہے کہ لیپی سنگھ نتیش کے معتمد مانے جانے والے سابق آئی اے ایس افسر اور جے ڈی یو کے رکن راجیہ سبھا آر سی پی سنگھ کی بیٹی ہیں۔

next