قومی

ایشوز کی شکست، مودی کی جیت: اشوک تنور

اشوک تنورنے کہا کہ ہریانہ میں کانگریس اور بی جے پی امیدواروں کے مابین سیدھی ٹکر نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقائی جماعتوں کی ریاست میں کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

سرسہ: ہریانہ ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر اور سرسہ سے پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر اشوک تنور نے لوک سبھا انتخابات میں ملی شکست پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آج کہا کہ ملک اور ریاست کے موضوعات کی شکست ہوئی ہے جبکہ مودی جیتے ہیں۔

یہاں ووٹوں کی گنتی کی جگہ پر میڈیا سے با ت چیت میں شکست قبول کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں عوامی فیصلہ منظور ہے۔

ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار کی وجہ سے ملازمین، کاروباری، کسان، مزدور ہر طبقہ پریشان رہا باوجود اس کے حکومت نے غریبوں اور خواتین کو لالچ دیکر ووٹ ہتھیانے کا کام کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں کانگریس اور بی جے پی امیدواروں کے مابین سیدھی ٹکر نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقائی جماعتوں کی ریاست میں کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ انہوں نے ریاست میں انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی) اور جن نائک جنتا پارٹی (جے جے پی) کے امیدواروں کو ملے ووٹوں پر چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ علاقائی جماعتوں کو جتنے ووٹ ملے ہیں انہوں نے تنہا حاصل کیے ہیں۔

ڈاکٹر تنور نے کہا کہ مرکزی حکومت نے فصل انشورنس اسکیم کے نام پر چار برس تک کسانوں سے پیسہ جمع کیا اور آخری برس میں کسانوں میں بے ترتیب تقسیم کر کے کسانوں کو لبھانے کا کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ایک طریقہ سے بالواسطہ طور پر گاؤں کے بھولے بھالے کسانوں کو ووٹ کے لئے رشوت دینے کا کام کیا ہے۔

ڈاکٹر تنور نے کہا کہ مودی حکومت نے لوک سبھا انتخابات میں مصنوعی قوم پرستی کی سیاست کی ہے۔ وزیراعظم مودی نے ترقیاتی اسکیموں کے بجائے ملک کی فوج اور شہید فوجیوں کے نام پر ووٹ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کا دوسری مرتبہ برسراقتدار آنا گاؤں اور غریب کے لئے افسوسناک ہے۔ ریاست میں کانگریس کے امیدواروں کی شکست کے سوال پر انہوں نے کہا کہ شکست کے اسباب کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے لئے بوتھ سطح تک کے کارکنوں سے رپورٹ طلب کی جائے گی اور پارٹی کے امیدواروں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے لیڈروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔