مودی-یوگی حکومت وارانسی میں مندروں اور مورتیوں کو توڑ کر ہزاروں سال پرانی مذہبی و ثقافتی وراثت تباہ کر رہی: کانگریس

وارانسی کے منی کرنیکا گھاٹ پر مندروں اور مورتیوں کو توڑے جانے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کانگریس لیڈر اجئے رائے نے کہا کہ اس سے ہندو سماج کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتے ہوئے اجئے رائے اور ابھے دوبے</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس نے وارانسی کے منی کرنیکا گھاٹ پر مندروں اور مورتیوں کو منہدم کیے جانے پر آج ایک بار پھر سخت احتجاج درج کیا۔ بی جے پی حکومت کے تئیں اپنی ناراضگی کرتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ ترقی کے نام پر وراثت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ ہندوتوا کا دکھاوا کرنے والی مرکز کی مودی اور اتر پردیش کی یوگی حکومت ہزاروں سال پرانی مذہبی و ثقافتی وراثت کو مسمار کر رہی ہے۔

نئی دہلی میں واقع کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے اور قومی میڈیا کوآرڈی نیٹر ابھے دوبے نے اس معاملہ میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ترقی اور حسن آرائی کے نام پر وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی (کاشی) کے ہزاروں سال پرانے مندروں کو توڑا جا رہا ہے اور گھاٹوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔‘‘


کانگریس لیڈر اجے رائے نے منی کرنیکا گھاٹ کے حسن آرائی کے نام پر بلڈوزر چلانے کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2023 میں وزیر اعظم نے گھاٹ کے حسن آرائی کے لیے سنگِ بنیاد رکھا تھا، لیکن خوبصورتی کے نام پر گھاٹ کو پوری طرح برباد کر دیا گیا۔ لوک ماتا اہلیا بائی ہولکر کی جانب سے جس گھاٹ کی مرمت و تجدید کرائی گئی تھی، وہاں ان کی مورتیوں، سینکڑوں سال پرانے مندروں اور شیو لنگ کو منہدم کرنے کے ساتھ ساتھ اُس مقام کو بھی توڑ دیا گیا ہے جہاں دیوی پاروتی کی منی گری تھی۔

منی کرنیکا گھاٹ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے اجے رائے نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ گھاٹ ’موکش‘ کے حصول کا بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ ہندو سماج کے لوگ اپنی آخری خواہش میں یہی چاہتے ہیں کہ ان کی آخری رسومات یہیں ادا کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس گھاٹ کی آگ کبھی نہیں بجھتی اور یہ عقیدہ ہے کہ یہاں آخری رسومات ہونے سے روح کو ’موکش‘ ملتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال پنچ کوشی یاترا کا آغاز منی کرنیکا گھاٹ سے ہوتا ہے اور کروڑوں عقیدت مند اس گھاٹ پر واقع کنڈ میں غسل کر کے یاترا کا عزم لیتے ہیں۔


اجے رائے نے کاشی وشوناتھ کوریڈور کے نام پر ہزاروں سال پرانے مندروں کو توڑے جانے اور ’اکشے وٹ‘ درخت کو کاٹ کر ختم کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکتی شورو مہادیو مندر، کسوٹی والے پتھر سے بنا نایاب لکشمی نارائن مندر اور شنی بھگوان کے مندر کو توڑ دیا گیا اور کوریڈور کے نام پر وہاں ایک جدید مال بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشی وشوناتھ کوریڈور کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی واہ واہی لوٹتے ہیں، لیکن حقیقت میں وراثت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے ہندو سماج کے گہرے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

اجئے رائے نے یاد دلایا کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر نریندر مودی کے دور حکومت میں بھی کئی مندر توڑے گئے تھے، جس کی مخالفت کرتے ہوئے وشو ہندو پریشد کے صدر اشوک سنگھل نے کہا تھا کہ کانگریس نے کبھی بھی اس طرح مندروں کو منہدم نہیں کیا اور نہ ہی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ اجے رائے نے دریائے گنگا کی بدحالی پر بھی حکومت سے سوال کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گنگا میں چلنے والے کروز سے پاخانہ اور پیشاب مقدس دریا میں ڈالا جا رہا ہے۔ اس کروز کا نام سوامی وویکانند کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کروز کے ذریعہ گنگا کو ناپاک کرنا سوامی وویکانند کی بھی توہین ہے۔ انہوں نے بنارس کی دال منڈی میں سینکڑوں سال پرانے تھوک بازار کو منہدم کیے جانے اور باز آبادکاری کا کوئی انتظام نہ ہونے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور چھوٹے تاجر تباہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت صرف ہندوتوا کا دکھاوا کرتی ہے، لیکن حقیقت میں پوری طرح ’ناستک‘ (ملحد) ہے۔


اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ابھے دوبے نے کہا کہ کاشی وہ سرزمین ہے جس کی تخلیق خود بھگوان شنکر نے کی، لیکن بی جے پی حکومت نے یہاں ایسا بڑا انہدام کیا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ منی کرنیکا گھاٹ پر انہدام کے ذریعہ بھگوان شنکر اور اہلیا بائی ہولکر کی توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے بجرنگ بلی کو جاری نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔ کانگریس لیڈران نے مطالبہ کیا کہ منی کرنیکا گھاٹ پر جاری کام کو فوری طور پر روکا جائے، کاشی کے مذہبی رہنماؤں سے بات چیت کر کے آگے کا کام کیا جائے، دال منڈی کو بلڈوزر سے بچایا جائے اور وہاں کے تاجروں اور مکینوں کی مکمل باز آبادکاری کا انتظام کیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔