مودی نے نوراتری پر رسوئی گیس کی قیمت پندرہ روپے کا اضافہ کر کے عجیب تحفہ دیا: کانگریس

الکا لامبا نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں سلنڈر گیس کی قیمت کئی ریاستوں میں ایک ہزار روپے سے زیادہ پڑ رہی ہے جبکہ ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ میں 664 روپے 27 پیسے ہے۔

ایل پی جی سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس
ایل پی جی سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا کہ آج پورے ملک میں نوراتری کا تہوار شروع ہوگیا ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافہ کرکے اہل وطن کو عجیب طرح کا تحفہ دیا ہے۔ کانگریس کی ترجمان الکا لامبا نے جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت مہنگائی میں اضافہ کرنے کا کام مسلسل کر رہی ہے اور نوراتری پر اس نے رسوئی گیس کی قیمت میں پندرہ روپے فی سلنڈر کا اضافہ کرکے ملک کے غریبوں کے ساتھ غیر حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل پی جی کی قیمت انٹرنیشنل مارکiٹ میں کمی ہوئی ہے لیکن ہمارے یہاں اضافہ ہوا ہے۔

الکا لامبا نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ملک میں سلنڈر گیس کی قیمت کئی ریاستوں میں ایک ہزار روپے سے زیادہ پڑ رہی ہے جبکہ ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت انٹرنیشنل مارکیٹ میں 664 روپے 27 پیسے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں عالمی بازار میں سلنڈر کی قیمت 885 روپے تھی لیکن تب ملک میں اس قدر ایل پی جی سلنڈر مہنگا نہیں ہوا تھا۔ جب زیادہ قیمت تھی تو ملک میں ایل پی جی کا سلنڈر اتنا زیادہ مہنگا نہیں تھا لیکن آج کئی ریاستوں میں یہ ایک ہزار روپے سے زیادہ پہنچ چکا ہے۔


کانگریس کی لیڈر نے کہا کہ ایل پی جی سبسڈی بھی لوگوں کو نہیں دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے لوگوں کے جن دھن اکاونٹ کھلوائے اور تشہیر کی کہ سبسڈی سیدھے اکاونٹ میں جائے گی لیکن حکومت کے پاس سبسڈی کا پیسہ ہی نہیں ہے اور لوگوں کے اکاونٹ میں سبسڈی کا پیسہ نہیں جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ ایل پی جی سلنڈر پر ملنے والی سبسڈی کہاں جا رہی ہے۔

انہوں نے پٹرول۔ڈیزل کی قیمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 24 ستمبر 2021 سے اب تک نو بار پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ سات اکتوبر کو دہلی میں پٹرول 103 روپے اور ڈیزل کی قیمت 99 روپے سے زیادہ پہنچ چکی ہے جبکہ پٹرول کی اصل قیمت 41 روپے پڑتی ہے۔ تیل کی جو قیمت لوگوں کو دینی پڑ رہی ہے اس میں باقی پیسہ ٹیکس کے طور پر دیا جا رہا ہے اور اس ٹیکس کے ذریعہ مودی حکومت نے گزشتہ سات برسوں میں 24 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ پیسہ پٹرول ڈیزل سے کمایا ہے۔


کانگریس کی لیڈر نے کہا کہ 2013-14 میں انٹرنیشنل مارکٹ میں خام تیل 140 ڈالر فی بیرل تھا جو آج گر کر 70 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے لیکن حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ سرسوں کے تیل کی قیمت آسمان چھو رہی ہے لیکن مودی لکھنو میں لوگوں سے دیوالی میں کروڑوں دیپک جلانے کے لئے کہہ رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔