مودی سرکار نے ملک کی خارجہ پالیسی کو گہری چوٹ پہنچائی: ملکارجن کھڑگے
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت نے غیر وابستگی اور اسٹریٹجک خودمختاری کو نقصان پہنچایا، چین اور امریکہ کے معاملے میں خارجہ پالیسی کمزور اور متضاد نظر آ رہی ہے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی قیادت والی حکومت نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر غیر وابستگی اور اسٹریٹجک خودمختاری کے اصولوں کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک تفصیلی پوسٹ میں کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا یہ دعویٰ کہ وہ ملک کو جھکنے نہیں دیں گے، زمینی حقیقت سے بالکل متصادم ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں حکومت کے فیصلوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ایک مستحکم سمت کے بجائے تضادات کا شکار ہو چکی ہے۔ کھڑگے کے مطابق پہلی مثال چین سے متعلق پالیسی ہے، جہاں پانچ سال قبل عائد کی گئی پابندیوں کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی پہلے ہی وادی گلوان کے واقعہ کے بعد چین کو کلین چٹ دے چکے ہیں، جس سے بہادر ہندوستانی فوجیوں کی قربانیوں کی توہین ہوئی۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اب چینی کمپنیوں کے لیے سرخ قالین بچھانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت کا سخت رویہ محض نعرے تک محدود تھا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس ’سرخ آنکھ‘ کی بات کی جاتی تھی، وہ چین کے سامنے بے اثر دکھائی دے رہی ہے۔
کھڑگے نے دوسری مثال امریکہ کے حوالے سے پیش کی۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ ہندوستان کی جانب سے روسی تیل کی درآمد پر تبصرے کر رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس خاموشی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت دباؤ کے سامنے جھک رہی ہے، جو ایک خودمختار خارجہ پالیسی کے منافی ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی جماعت کے نزدیک خارجہ پالیسی کی بنیاد قومی مفاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ وقتی سیاسی مصلحتوں پر۔ ان کا الزام تھا کہ مودی حکومت نے غیر صف بندی اور اسٹریٹجک خودمختاری جیسے بنیادی اصولوں کو کمزور کر دیا ہے۔ کھڑگے کے مطابق موجودہ خارجہ پالیسی ایک بے قابو پنڈولم کی طرح جھول رہی ہے، جس کے منفی اثرات براہ راست ہندوستانی عوام پر پڑ رہے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔