چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں ہٹانے کی تیاری! کانگریس کا الزام، ’مودی حکومت نے شہادتوں کا سودا کیا‘
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت چینی کمپنیوں پر 2020 کے بعد عائد پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہی ہے۔ کانگریس نے اسے گلوان کے شہیدوں اور قومی سلامتی سے سمجھوتہ قرار دیا

نئی دہلی: چینی کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکوں میں حصہ لینے سے روکنے والی پابندیوں میں نرمی کی خبروں نے سیاسی ہلچل تیز کر دی ہے۔ حزب اختلاف کی اہم جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت ہندوستانی فوجیوں کی شہادتوں کا سودا کر رہی ہے۔ رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ ان پابندیوں کو ختم کرنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے، جو 2020 میں ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپ کے بعد نافذ کی گئی تھیں۔
ان پابندیوں کے تحت چین سمیت پڑوسی ممالک کی کمپنیوں کو سرکاری ٹینڈروں میں حصہ لینے سے پہلے ایک سرکاری کمیٹی میں اندراج اور سیاسی و سلامتی سے متعلق منظوری حاصل کرنا لازم تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان قواعد کے باعث گزشتہ برسوں میں چینی کمپنیاں تقریباً سات سو ارب سے سات سو پچاس ارب ڈالر مالیت کے سرکاری ٹینڈروں سے باہر رہیں۔ وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کئی وزارتوں اور محکموں نے منصوبوں میں تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے رجسٹریشن کی شرط ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔
انہی مطالبات کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی، جس کی صدارت سابق کابینہ سکریٹری راجیو گابا کر رہے تھے، نے پابندیوں میں نرمی کی سفارش کی ہے۔
کانگریس کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت چین کے ساتھ سرکاری معاہدوں کی راہ ہموار کر کے ہندوستانی فوجیوں کی شہادتوں کا سودا کر رہی ہے۔ کانگریس نے یاد دلایا کہ 5 برس قبل وادی گلوان میں چین کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہندوستان کے 20 فوجی شہید ہوئے تھے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس وقت وزیر اعظم نے سرحد میں کسی دراندازی سے انکار کر کے چین کو کلین چٹ دی اور عوامی دباؤ کے بعد چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔
کانگریس کے مطابق اب جب عوامی غصہ کم ہو چکا ہے تو حکومت خاموشی سے انہی پابندیوں کو ہٹانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ پارٹی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہی چین، جو آپریشن سندور کے دوران پاکستان کا ساتھ دے رہا تھا اور اسے اطلاعات فراہم کر رہا تھا، آج مودی حکومت کے لیے قابلِ قبول کیسے ہو گیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں چینی کمپنیوں کو سرکاری ٹھیکے دینا قومی سلامتی اور شہیدوں کی قربانیوں کی توہین ہے۔
وہیں، حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ مجوزہ تبدیلیاں اقتصادی ضرورتوں اور منصوبوں کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے زیرِ غور ہیں، تاہم اس بارے میں باضابطہ فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔ اس دوران یہ معاملہ محض اقتصادی پالیسی تک محدود نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور سیاسی جواب دہی کے بڑے سوالات سے جڑ گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو گا کہ حکومت رائٹرز کی رپورٹ میں بیان کردہ تجاویز پر کس حد تک عمل کرتی ہے اور اس کے سیاسی مضمرات کیا ہوں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔