بے روزگاری بڑھانے میں مودی حکومت ’دھورندھر‘، اس کے پاس مسئلہ کا کوئی حل موجود نہیں: کانگریس
جئے رام رمیش نے کہا کہ ملک کی عوام کو قطار میں کھڑا کرنے میں ماہر اس حکومت میں نوجوان نوکری کی لائن میں کھڑا ہے، لیکن نوکری نہیں ہے۔
کانگریس نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ مودی حکومت کے پاس بے روزگاری جیسے ’سنگین بحران‘ کا کوئی حل نہیں ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جس رپورٹ کا ذکر کیا، وہ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت بے روزگاری بڑھانے میں ماہر ہے۔
جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس تعلق سے ایک پوسٹ کیا ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ ’’بے تحاشا بے روزگاری بڑھانے میں مودی حکومت ماہر ہے۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے انتخابی تقاریر میں نوجوانوں کے ریل بنانے کو اپنی حکومت کی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں ہے، کیونکہ ہندوستان میں تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ اسی لیے ان میں روزگار کے مسئلے پر بات کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
جئے رام رمیش نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’20 سے 29 سال کی عمر کے 6.3 کروڑ گریجویٹس میں سے تقریباً 1.1 کروڑ نوجوان بے روزگار ہیں۔ صرف 7 فیصد گریجویٹس ہی بے روزگاری کے ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ والی نوکری حاصل کر پاتے ہیں۔ تعلیم میں نوجوانوں (مردوں) کی شمولیت 2017 میں 38 فیصد سے کم ہو کر 2024 کے آخر تک 34 فیصد رہ گئی۔‘‘ کانگریس رہنما کے مطابق معاشی مجبوریوں کے سبب نوجوان تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ ’’2017 میں جہاں 58 فیصد نوجوانوں نے گھر کی آمدنی میں مدد کے لیے تعلیم چھوڑ دی، وہیں 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 72 فیصد ہو گئی۔ ایسی کئی دیگر رپورٹس بھی مسلسل سامنے آ چکی ہیں۔‘‘ جئے رام رمیش نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ملک کی عوام کو قطار میں کھڑا کرنے میں ماہر اس حکومت میں نوجوان نوکری کی لائن میں کھڑا ہے، لیکن نوکری نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے پاس ہر کچھ دن بعد توجہ ہٹانے کے لیے نیا ایجنڈا لانے کے سوا اس بڑے بحران کا کوئی حل نہیں ہے۔‘‘