بی جے پی نے ڈگری کو ردی اور تعلیمی اداروں کو کھنڈر بنانے کی قسم کھا لی ہے: کانگریس

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نصیر حسین نے سوال کیا کہ ’’جس طرح ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی اور ای سی آئی کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، کیا ویسے ہی نیشنل میڈیکل کمیشن کا بھی غلط استعمال ہو رہا ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کے دوران کانگریس لیڈر سید نصیر حسین اور&nbsp;دویہ مہیپال مڈیرنا (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن سید نصیر حسین اور آل انڈیا نیشنل کانگریس کی قومی سکریٹری دویہ مہیپال مڈیرنا نے ہفتہ (17 جنوری) کو پریس کانفرنس کر بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی نے تعلیمی نظام کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ کر تباہ و برباد کر دیا ہے۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سید نصیر حسین نے کہا کہ ’’بی جے پی نے تعلیم کا مذاق بنا دیا ہے۔ اچھی تعلیم ہر ترقی یافتہ قوم کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن بی جے پی حکومت اسے تباہ کرنے کا کام کر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے بطور مثال مدھیہ پردیش کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مدھیہ پردیش کے بیتول میں عبد النعیم نے خود کے 22-20 لاکھ روپے خرچ کر ایک اسکول کی تعمیر کی، تاکہ وہاں بچوں کو اچھی تعلیم مل سکے۔ نعیم نے این او سی اور لائسنس لے کر اسکول شروع کیا، لیکن بی جے پی کے ایکو سسٹم نے مدرسہ چلانے کی افواہ پھیلائی۔ جبکہ اس گاؤں میں صرف 3 مسلم خاندان رہتے ہیں اور بقیہ خاندان قبائلی برادری سے آتے ہیں۔ آخر میں ضلع کلکٹر نے بغیر کسی جانچ اور نوٹس کے اسکول پر بلڈوزر چلوا دیا۔‘‘

کانگریس لیڈر نے تعلیم کو برباد کرنے اور اقلیتی طبقہ کے خلاف کی گئی دیگر کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسی طرح جموں و کشمیر میں ایک میڈیکل کالج کو بند کر دیا گیا۔ کرناٹک کے بیلگاوی میں اسکول کے مسلم ہیڈ ماسٹر کو ہٹوانے کے لیے کچھ شرپسند عناصر پانی کی ٹنکی میں زہر ملا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی بچے بیمار ہو گئے تھے لیکن جب جانچ ہوتی ہے تو چاروں ملزمان کو گرفتار کیا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’آسام کے نلواڑی میں 24 دسمبر 2025 کو سینٹ میری کرسمس اسکول میں تہوار کی مکمل تیاریوں کو برباد کر دیا جاتا ہے۔ یوپی میں بھی پہلے کرسمس کی چھٹی ہوتی تھی لیکن اس بار وی ایچ پی جیسی تنظیموں نے چھٹی نہ دینے اور جشن نہ منانے کا مطالبہ کیا جسے بی جے پی حکومت نے مان لیا۔‘‘


جموں و کشمیر کے ’ویشنو دیوی میڈیکل کالج‘ کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’مودی حکومت میں تعلیم کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کے ویشنو دیوی میڈکل کالج میں این ای ای ٹی کی بنیاد پر طلبہ کا داخلہ ہوا۔ داخلے کی حتمی لسٹ میں مسلم طلبہ کی تعداد زیادہ تھی، 50 میں سے 42 مسلم تھے۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اس علاقے میں مسلم طبقہ کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایسے میں کاؤنسلنگ کے وقت زیادہ تر بچوں نے اپنے علاقے کے کالج کو منتخب کیا، تاکہ وہ گھر کے پاس رہ سکیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لیکن نیشنل میڈیکل کمیشن نے اس کالج کی اجازت کو ہی منسوخ کر دیا، وہ بھی صرف اس لیے کیونکہ یہاں مسلم طلبہ کی تعداد زیادہ تھی۔ ایسے میں سوال ہے کہ کیا اس کالج کو لائسنس دینے سے قبل صحیح طریقے سے تحقیقات نہیں کی گئی تھی؟ کیا لائسنس دینے سے قبل تمام اصول و ضوابط کو پورا نہیں کیا گیا تھا؟‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں ایسی کئی مثالیں ہیں، جہاں مسلم یا عیسائی کالج میں بڑی تعداد میں دوسرے طبقہ کے طلبہ بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

راجیہ سبھا رکن نے حکومت سے کچھ تلخ سوال بھی پوچھے کہ ’’بیتول کے معاملے میں کیا کلکٹر بتائیں گے کہ ان کے اوپر کس کا اور کیسا دباؤ تھا؟ افسر اگر دباؤ میں آ کر اسکول منہدم کر دے رہا ہے تو کیا ان کی ٹریننگ مسوری میں ہو رہی ہے یا ناگپور میں؟ ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں اچانک معائنہ کیوں کیا گیا، شکایت کس کی تھی، کیا کالج کے خلاف کارروائی عوامی دباؤ کی وجہ سے کی گئی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’کیا حالات اتنے سنگین تھے کہ پورے میڈیکل کالج کو ہی بند کرنا پڑا، کیا ایگزامنیشن سسٹم کے بارے میں جانکاری نہیں لی گئی تھی؟ ستمبر 2025 میں میڈیکل کالج کو ایم بی بی ایس کورس کی اجازت دی گئی تھی تو کیا اس سے قبل انفراسٹرکچر سے متعلق تحقیقات نہیں کی گئی تھی؟‘‘ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ’’جیسے ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی اور ای سی آئی کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، کیا ویسے ہی این ایم سی (نیشنل میڈیکل کمیشن) کا بھی غلط استعمال ہو رہا ہے۔‘‘


سید نصیر حسین کے مطابق ملک تعلیم اداروں کا کھلے عام ’بھگوا کرن‘ کیا جا رہا ہے۔ تنقیدی فکر کو فروغ دینے والے اور سائنٹفک اپروچ والے اداروں پر بھی کئی طرح سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے کئی اداروں کا بجٹ گھٹا دیا جا رہا ہے اور جے این یو کو اضافی بجٹ نہیں دیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے سنٹر کھل رہے ہیں نئے طلبہ آ رہے ہیں لیکن فنڈ نہیں دیا جا رہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ آج اچھے طلبہ ملک چھوڑ رہے ہیں اور مسلسل ’برین ڈین‘ ہو رہا ہے۔ بی جے پی حکومت تعلیمی نظام کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔ ریاستوں میں ہر سال اسکول بند ہو رہے ہیں۔ سرکاری اساتذہ کی بھرتی نہیں کی جا رہی ہے۔

راجیہ سبھا رکن نے اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ہندوستان کا چین اور امریکہ سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے یہاں اعلیٰ تعلیم میں صرف 27 فیصد طلبہ جاتے ہیں، جبکہ امریکہ اور چین میں یہ اعداد و شمار 70 فیصد ہے۔ ہمارے ملک میں اساتذہ-طلبہ اور مریض-ڈاکٹر کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج جہاں ملک اچھی تعلیم کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں کالج اور اسکولوں پر ہو رہے یہ حملے ٹھیک نہیں ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ اگر کسی تعلیمی ادارہ سے مسلم یا عیسائی کا نام جڑا ہوتا ہے تو اس کے اوپر مسلسل حملہ کیا جاتا ہے۔‘‘


اخیر میں سید نصیر حسین نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں اصلاحی قدم اٹھاتے ہوئے اسے پھر سے کھولا جائے۔ مدھیہ پردیش کے بیتول میں منہدم کیے گئے اسکول کو پھر سے تعمیر کرنے اور شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان دونوں معاملوں میں ہائی پاور کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات ہو اور قصورواروں کو سزا دی جائے۔ بلڈوزر کلچر اور زہریلی سیاست کو بی جے پی بند کرے۔‘‘

نصیر حسین کے علاوہ آل انڈیا نیشنل کانگریس کی قومی سکریٹری دویہ مہیپال مڈیرنا نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سونیا گاندھی جی نے یو پی اے حکومت میں رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ لائی تھیں، لیکن بی جے پی حکومت رائٹ ٹو ڈیمولش ایجوکیشن سسٹم لے کر آ رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے لیے تعلیم ایک انتخابی جملہ بن گیا ہے۔ بی جے پی حکومت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پڑھنے لکھنے والے نوجوانوں کی دانشمندی کو ختم کرنا چاہتی ہے، تاکہ ان کے واٹس ایپ یونی ورسٹی کا نصاب چلایا جا سکے۔ بی جے پی نے ڈگری کو ردی اور تعلیمی اداروں کو کھنڈر بنانے کی قسم کھا لی ہے۔‘‘