مودی حکومت 'پرائیویٹ ٹرینوں' کو اپنا کرایہ خود طے کرنے کی دے گی چھوٹ!

ریلوے بورڈ کے چیئرمین وی کے یادو کا کہنا ہے کہ "پرائیویٹ کمپنیوں کو اپنے طریقے سے کرایہ طے کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

ریل مسافروں کے لیے ایک بری خبر سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق پرائیویٹ ٹرینوں کا کرایہ کمپنیاں ہوائی جہاز کرایہ کے طرز پر خود طے کریں گی۔ انڈین ریلوے اپنے نیٹورک پر پرائیویٹ کمپنیوں کی مسافر ٹرینیں چلانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ملک میں پرائیویٹ ٹرینیں شروع ہو جائیں گی۔ مودی حکومت پرائیویٹ ٹرین چلانے والی کمپنیوں کو کرایہ خود طے کرنے کی چھوٹ دےگی، اس لیے پرائیویٹ ٹرینوں پر سفر کافی مہنگا ثابت ہونے والا ہے۔

ریلوے بورڈ کے چیئرمین وی کے یادو نے اس تعلق سے ایک ہندی نیوز پورٹل کو بتایا کہ "پرائیویٹ کمپنیوں کو اپنے طریقے سے کرایہ طے کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ حالانکہ ان راستوں پر اگر اے سی بسیں اور ہوائی جہاز کی بھی سہولت ہے تو کرایہ طے کرنے کے پہلے کمپنیوں کو اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا۔"

قابل ذکر ہے کہ ریلوے کا منصوبہ 23-2022 میں 12 پرائیویٹ مسافر ٹرینیں چلانے کا ہے۔ بعد ازاں 24-2023 میں یہ تعداد 45 ہو جائے گی اور پھر 26-2025 میں 50 اور اس کے اگلے سال 44 مزید مسافر ٹرینیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح 27-2026 تک کل 151 مسافر ٹرینیں شروع کی جائیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریل گاڑیوں کے 130 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے پر سفر میں 10 سے 15 فیصد کی اور 160 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے پر 30 فیصد تک کی بچت ہوگی۔ ریلوے کو ان 151 ٹرینوں کے چلانے سے ہر سال تقریباً 3000 کروڑ روپے کرایہ کے طور پر ملنے کی امید ہے۔ ان ٹرینوں پر انڈین ریلوے کے ڈرائیور اور گارڈ ہی رکھے جائیں گے۔

next