مودی حکومت نے ہندوستانی عوام کو ایک ایک سانس کے لیے ترسا دیا، ذمہ دار کون؟

پرینکا گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "آکسیجن کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہونے کے باوجود ہمارے کئی شہریوں کی آکسیجن کی کمی سے موت ہو گئی۔ ذمہ دار کون؟"

پرینکا گاندھی / آئی اے این ایس / ٹوئٹر
پرینکا گاندھی / آئی اے این ایس / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی ملکی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے 'ذمہ دار کون؟' سیریز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے چلا رہی ہیں اور اس کے تحت مرکز کی مودی حکومت کے سامنے سوال قائم کرتی ہیں کہ آخر مذکورہ مسئلہ کے لیے ذمہ دار کون ہے۔ آج انھوں نے آکسیجن کی کمی سے متعلق سوال 'ذمہ دار کون؟' سیریز کے تحت اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "مرکزی حکومت کی لاپروائی نے ہندوستان کے لوگوں کو ایک ایک سانس کے لیے ترسا دیا۔ آکسیجن کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہونے کے باوجود ہمارے کئی شہریوں کی آکسیجن کی کمی سے موت ہو گئی۔ ذمہ دار کون؟"

یہاں قابل ذکر ہے کہ اتوار کے روز بھی انھوں نے آکسیجن بحران کے تعلق سے سوال اٹھایا تھا اور مرکز کی مودی حکومت سے اس کی وجہ پوچھی تھی۔ ہفتہ کے روز انھوں نے آکسیجن سلنڈر کی قیمت اور مریضوں کو اس کی فوری فراہمی نہ کیے جانے پر سوال قائم کیا تھا۔ 29 مئی کو کیے گئے ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا تھا "آکسیجن کی فوری فراہمی یقینی کرنے کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھائے گئے؟ ایمپاورڈ گروپ-6 کی صلاح کو پوری طرح سے نظرانداز کیوں کیا گیا؟ کورونا کی دوسری لہر کا اندازہ ہونے کے باوجود آکسیجن سپورٹ کے لئے استعمال ہونے والے کرایوجینک ٹینکروں کی تعداد بڑھانے کے لئے کوئی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟"


کانگریس جنرل سکریٹری نے ہفتہ کے روز کیے گئے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ "کورونا وبا نے جس سال میں پوری دنیا میں تباہی مچائی آخر کیوں اسی سال 2020 میں مودی حکومت نے آکسیجن کی برآمدگی بڑھا کر 700 فیصد کر دی؟ ہیلتھ معاملوں کی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے مشوروں کو نظر انداز کر کیوں آکسیجن سلنڈر اور سلنڈر ریفیلنگ کی قیمت پر کنٹرول نہیں کیا گیا؟ ذمہ دار کون؟"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔