کیا مودی حکومت دسمبر تک مکمل کورونا ٹیکہ کاری کے اپنے دعویٰ سے پیچھے ہٹ رہی ہے؟

عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو ٹیکہ کاری سے متعلق آج کئی طرح کی ہدایات دیں۔ ان ہدایات میں ایک ہدایت یہ بھی تھی کہ ملک میں ویکسین کی یکساں قیمت ہونی چاہیے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

ابھی کچھ دن پہلے ہی مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے دعویٰ کیا تھا کہ پورے ملک میں دسمبر تک سبھی کی ٹیکہ کاری ہو جائے گی۔ اب اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک بیان دیا ہے۔ ہندوستان کی کئی ریاستوں سے ویکسین کی قلت کی خبریں آ رہی ہیں اور اس درمیان مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک ملک میں سبھی اہل آبادی کو ویکسین لگ جانے کی امید ہے۔ ساتھ ہی مرکز کی مودی حکومت نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ فائزر جیسی کمپنیوں کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے۔ اگر یہ ٹیکے مل گئے تو اندازے سے پہلے بھی ملک میں ٹیکہ کاری پوری ہو جائے گی۔

مذکورہ بیان میں 'امید' اور 'اگر' جیسے الفاظ کے استعمال سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے جو دعویٰ گزشتہ دنوں کیا تھا، اس سے پیچھے ہٹنے کا ایک راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ ویسے بھی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب تک ملک کے تقریباً چار فیصد لوگوں کی ہی ٹیکہ کاری ہو پائی ہے، اور سات مہینے میں بقیہ لوگوں کی ٹیکہ کاری آسان نہیں۔


بہر حال، عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو ٹیکہ کاری سے متعلق آج کئی طرح کی ہدایات دی۔ عدالت نے کہا کہ ملک میں ویکسین کی یکساں قیمت ہونی چاہیے۔ اس کے جواب میں سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ 'واک اِن' رجسٹریشن کی سہولت دستیاب کروائی جا رہی ہے۔ حکومت سے سوال کرتے ہوئے کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ریاستوں کو 45 سے اوپر والی عمر کے طبقہ کے لیے 100 فیصد ویکسین مل رہے ہیں، لیکن 18 سے 44 سال والی عمر کے طبقہ کے لیے کیوں صرف 50 فیصد سپلائی کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے CoWin ایپ پر لازمی رجسٹریشن سے متعلق بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ دیہی علاقوں میں لوگ کس طرح رجسٹریشن کروائیں گے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 May 2021, 4:11 PM