مودی حکومت ملک کے دشمنوں کو کلین چٹ دے رہی ہے: کانگریس

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ اگر سبکدوش فوجی افسر، دفاعی ماہرین، اپوزیشن اور میڈیا حکومت سے سرحدوں کی سالمیت پر سوال پوچھے یا حکومت کو آگاہ کرے تو انھیں آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں۔

کانگریس ترجمان پون کھیڑا
کانگریس ترجمان پون کھیڑا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان اور چین کے درمیان تلخ ہوتے رشتوں کے درمیان کانگریس نے ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ چین کے ساتھ پرانے اور گہرے تعلقات ہونے کے باوجود چین ہماری زمین پر قبضہ کرتا ہے اور مسلسل آگاہ کیے جانے کے بعد بھی حکومت اس بارے میں خاموش رہتی ہے تو اس چپی کی وجہ ملک کو بتائی جانی چاہیے۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں واضح لفظوں میں کہا کہ "آج ملک کی سرحدوں پر ایک سنگین چیلنج درپیش ہے۔ حکومت کے سامنے دو متبادل ہیں، یا تو پورے ملک کو ساتھ لے کر فوج کے پیچھے کھڑے ہو کر چین کا مقابلہ کریں یا پھر شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا کر یہ مان لیں کہ ایل اے سی پر کوئی دراندازی ہوئی ہی نہیں۔" پون کھیڑا مزید کہتے ہیں کہ "افسوسناک امر ہے کہ مودی حکومت نے ایک تیسرا راستہ اختیار کیا جہاں اگر سبکدوش فوجی افسر، دفاعی ماہر، اپوزیشن، میڈیا یا کوئی بھی اگر حکومت سے سرحدوں کی سالمیت پر سوال پوچھے یا حکومت کو آگاہ کرے تو انھیں لال آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں اور ملک کے دشمنوں کو کلین چٹ دی جا رہی ہے۔"

چین سے حالیہ سرحدی تنازعہ کے تعلق سے بات کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ پی ایم مودی جب گجرات کے وزیراعلی تھے تو چین سمیت کچھ ممالک کے اعلی رہنماؤں سے ان کے گہرے تعلقات تھے۔انہی تعلقات کی وجہ سے پی ایم مودی گجرات کے وزیراعلی رہتے ہوئے چار بار چین کے دورے پر گئے تھے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے انتخابی منشور گلوبل ٹائمس نے 2014 میں پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ چین نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ بہتر محسوس کرتا ہے۔ یہاں تک کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے وقت بھی گلوبل ٹائمس نے کہا تھا کہ چینی کمپنیاں چاہتی ہیں کہ گجرات میں بی جے پی جیتے۔


کانگریس ترجمان نے کہا کہ چین کے کہنے پرمودی حکومت اس کے مطابق فیصلہ کرتی رہی ہے۔ کچھ سال پہلے چین کے کہنے پر ہی حکومت نے سرحد پر اپنے بنکر ہٹائے اور اس شرط کے پورا ہونے کے بعد ہی چین پیچھے ہٹا۔ مطلب کہ ہنوستانی سرحد نے بنکر اپنی سرحد میں بنائے تھے، ان سے چین کے کہنے پر پیچھے ہٹنے کو کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈوکلام میں 73 دن کا تعطل رہا اور پھر بات چیت کے بعد دونوں افواج پیچھے ہٹیں۔ اس کے باوجود چین وہاں مسلسل تعمیری کام کرتا رہا لیکن پی ایم مودی کچھ نہیں بولے۔

پون کھیڑا نے مزید کہا کہ گلوان وادی کے سلسلے میں چین نے کبھی کوئی بات آج تک نہیں کی لیکن اس نے اس علاقے پر قبضہ کیا۔ اس سلسلے میں مسلسل حکومت کو آگاہ کیا جاتا رہا ہے لیکن حکومت اس بارے میں کبھی کچھ نہیں بولی۔ چین کے ساتھ پی ایم مودی کے تعلقات کا کیا مطلب ہے اگر چین ہندوستانی سرحد پر قبضہ کرتا ہے اور ہماری زمین کو قبضے میں لیتا ہے اور ہمارے فوجی مارے جاتے ہیں۔


کانگریس ترجمان نے کہا کہ سب سے بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ چین کو اس کے قبضے کی کارروائی کے سلسلے میں کٹگھرے میں کھرا کرنے کے بجائے مودی حکومت اپوزیشن پر حملہ کر رہی ہے اور چین کے خلاف بولنے والوں سے الٹے سوال کیے جا رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ لداخ علاقے میں چین نے قبضہ کیا ہے اور اس کے فوجی سرحد پر جم کربیٹھے ہیں۔ اس کے ثبوت سیٹ لائٹ کی تصویروں سے بھی مل رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ متنازعہ گلوان وادی حکومت کی ڈھلمل پالیسیوں کی وجہ سے تنازع میں آئی ہے۔ ایسے بے تکے تنازع سے فوج کے حوصلے پر اثر پرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ ہی پورا ملک فوج کے ساتھ کھڑا ہے اور مسلسل اس کا حوصلہ بڑھایا جا رہا ہے۔ پی ایم مودی چین کو آنکھیں نہیں دکھاتے ہیں بلکہ اپوزیشن کو اور میڈیا کو دکھاتے ہیں جو غلط ہے۔

پون کھیڑا نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا کا کوئی ملک ہندوستان کے ساتھ اس وقت کھڑا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایم مودی بغیر ایجنڈے کے چین کا سفر کرتے ہیں۔ آپ غیرملک میں جاکر انفرادی شبیہ کے لئے کام کرتے ہیں اور اس طرح کی کوششوں کا ملک کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک ہندوستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہے تو پھر مودی کی ’پرسنل ڈپلومیسی‘ کا کیا ہوا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 25 Jun 2020, 2:48 PM