مودی کابینہ میں رد و بدل بے معنی، بی جے پی کو اپنا ویژن بدلنے کی ضرورت: کانگریس

اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں 2022 کے الیکشن سے قبل مودی کابینہ میں پہلی بڑی تبدیلی آج شام عمل میں آئی۔ حلف برداری تقریب سے قبل تقریباً ایک درجن وزراء نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیا۔

کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل
کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل
user

قومی آوازبیورو

بدھ کی شام مودی کابینہ میں بڑا رد و بدل دیکھنے کو ملا جس کے تحت 43 لیڈروں نے راشٹرپتی بھون میں وزارتی عہدہ کا حلف اٹھایا۔ لیکن اس حلف برداری سے قبل مودی کابینہ میں شامل درجنوں وزراء نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے پیش نظر کانگریس کا کئی لیڈروں نے اپنا اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل نے اس کابینہ توسیع کو بے معنی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے سامنے کھڑے ایشوز ثابت کرتے ہیں کہ بی جے پی ٹھیک سے حکومت کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے لیے اسے کابینہ میں تبدیلی نہیں، اپنے ویژن میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

کانگریس ترجمان جے ویر شیرگل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’کابینہ میں رد و بدل کا کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ جب معیشت، روزگار، صحت بنیادی ڈھانچے، قومی تحفظ کی بات آتی ہے تو بی جے پی حکومت پوری طرح سے ناکام ہے۔ بی جے پی حکومت کو پورٹ فولیو بدلنے کی جگہ اپنے ویژن اور حکومت کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘


واضح رہے کہ اتر پردیش سمیت 5 ریاستوں میں 2022 کے الیکشن سے قبل مودی 2.0 کا پہلا بڑا رد و بدل آج شام عمل میں آیا۔ کابینہ توسیع سے قبل موجودہ کابینہ کے تقریباً ایک درجن وزراء نے استعفیٰ دے دیا جن میں مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن، وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک، روی شنکر پرساد اور پرکاش جاوڈیکر وغیرہ نام انتہائی اہم ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔