جھارکھنڈ: منریگا مزدوروں کو بیمہ اور پنشن منصوبہ سے جوڑنے کا اعلان

جھارکھنڈ کے منریگا مزدوروں کو اب روزگار کے ساتھ ساتھ حکومت کی مختلف بیمہ اور پنشن پالیسیوں کا بھی فائدہ مل سکے گا، اس سلسلے میں محکمہ دیہی ترقیات نے سبھی ضلع کے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر کو خط لکھا ہے۔

منریگا، تصویر آئی اے این ایس
منریگا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

جھارکھنڈ میں منریگا مزدوروں کو اب روزگار کے ساتھ ساتھ حکومت کی مختلف بیمہ اور پنشن سے متعلق منصوبوں کا بھی فائدہ مل سکے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ دیہی ترقیات نے سبھی ضلع کے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر کو خط کے ذریعہ ہدایات جاری کیے ہیں۔ دیہی ترقیات محکمہ کے سکریٹری منیش رنجن نے سبھی ضلعوں کے ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ منریگا مزدوروں اور ان کے کنبہ کو معاشی طور سے مضبوط کرنے کے لیے انھیں مرکزی حکومت کی پنشن اور بیمہ منصوبوں سے جوڑنے کے لیے مہم چلائی جائے۔

محکمہ نے ہدایت دی ہے کہ ریاست میں 100 دن کے روزگار دینے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو اٹل پنشن منصوبہ، وزیر اعظم سیکورٹی بیمہ منصوبہ اور وزیر اعظم جیون جیوتی منصوبہ سے جڑنے کے لیے مختلف سطح پر عوامی بیداری مہم چلائی جائے۔ ساتھ ہی ہدایت دی ہے کہ مہاجر مزدوروں کو انہی کے گاؤں میں روزگار ملے، یہ یقینی بنایا جائے۔


محکمہ کے سکریٹری منیش رنجن نے کہا کہ ’روزگار بھی، زندگی بھی‘ کے فارمولے پر حکومت سبھی منریگا مزدوروں کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ اس وقت ریاست کے مختلف اضلاع میں 41 لاکھ 63 ہزار 806 مزدور کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کام کے دوران یا حادثہ میں موت ہونے یا زخمی ہونے والے منریگا مزدوروں کو حکومت امدادی رقم کی شکل میں بالترتیب 75000 اور 37500 روپے دیتی ہے۔

اس منصوبہ کا فائدہ اب تک ریاست کے مزدوروں کے اہل خانہ کو مل رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ فائدہ لاتیہار ضلع کے مزدور کے کنبہ کو ملا ہے۔ یہاں 17 مزدوروں کے گھر والوں کو امدادی رقم کی شکل میں فائدے دیئے گئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر گریڈیہہ اور تیسرے نمبر پر چترا ضلع ہے۔ گریڈیہہ میں اب تک 10 اور چترا میں 8 منریگا مزدوروں کے اہل خانہ کو امدادی رقم دی جا چکی ہے۔ اسی طرح سمڈیگا میں ایک، کھونٹی میں تین، دیوگھر میں تین، گوڈا میں دو، رام گڑھ میں ایک، پلاموں میں دو، لوہردگا میں ایک، گملہ میں 6، رانچی میں 6، دھنباد میں دو اور کوڈرما میں ایک منریگا مزدور کی موت کے بعد ان کے گھر والوں کو حکومت کی سطح پر 75000 روپے کی معاشی مدد کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔