مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں سے سب سے زیادہ اقلیتی طبقہ متاثر ہوا: عمران پرتاپ گڑھی

عمران پرتاپ گڑھی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’جین سماج کو یوپی اے کے دور اقتدار میں ہی اقلیت کا درجہ دیا گیا تھا جو کہ موجودہ بی جے پی حکومت نہیں چاہتی۔‘‘

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: موجودہ حکومت میں اقلیتوں کے خلاف جاری رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبہ اقلیت کے سربراہ اور مشہور شاعر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سب سے زیادہ شکار اقلیتی طبقہ کے لوگ ہی ہوئے ہیں جس میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی جیسے فیصلے بھی شامل ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان اور چوٹ جین سماج کو ہی پہنچی۔

جین سماج کو کانگریس سے قریب لانے کی مہم کے تحت منعقدہ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ، موجودہ حکومت کی اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں کو لیکر جین سماج کے ذمہ داران کافی ناراض ہیں، انہوں نے کہا کہ جین سماج کو یو پی اے کے دور اقتدار میں ہی اقلیت کا درجہ دیا گیا تھا جو کہ موجودہ بی جے پی حکومت نہیں چاہتی۔


اقلیتی شعبہ کے قومی صدر نے جین سماج کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کانگریس پارٹی سے جو ڈور ٹوٹ گئی تھی اسے دوبارہ سے جوڑے جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جین سماج کو اقلیتی شعبہ میں ہر ریاستی کمیٹی اور ضلع کمیٹی سے لیکر بلاک اور بوتھ لیول تک کے کمیٹی میں جگہ دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی حصولیابیوں کو عوام میں گنا نہیں پاتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عوام کے بیچ جا کر انہیں موجودہ بی جے پی حکومت اور کانگریس دور حکومت کے بارے میں بتائیں کہ کانگریس حکومت نے اقلیتوں کے لئے جو اقدامات کئے تھے اور انہیں جو حقوق حاصل تھے آج انہیں پامال کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے ملک میں اس طرح کے پروگرام کئے جائیں تا کہ پارٹی اور سماج کی دوری کو کم کیا جاسکے اور ان کی جو شکایات ہیں ان کے جو مسائل ہیں انہیں حل کیا جائے اور ایک با ضابطہ روڈ میپ تیار کیا جاسکے۔

اس موقع پر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے خزانچی پون کمار بنسل صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی شعبہ کی جانب سے اٹھا یا گیا انتہائی اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں مانتا ہوں کہ جین سماج اور کانگریس پارٹی کے درمیان تھوڑی سی دوری ہو گئی تھی، اب اس میٹنگ کے بعد سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب اس دوری کو کم کرنے میں کامیابی ملے گی۔ آپ نے جو قدم اٹھایا ہے یہ میل کا پتھر ثابت ہوگا اور وہ دن دور نہیں جب جین سماج اقلیت نہیں بلکہ اکثریت کی طرح دکھے گا۔


اس موقع پر اور بھی بہت سی اہم شخصیات موجود تھیں جن میں سابق مرکزی وزیر حکومت ہند پردیب جین، سابق سکریٹری اے آئی سی سی سنجے باپنا، اور سماجی کارکن بابو رام گپتا جیسے اہم لوگوں نے شرکت کر اپنے قیمتی مشوروں نے نوازا اور آگے بھی اقلیتی شعبہ کی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے علاوہ اقلیتی شعبہ کے وائس چیئر مین انورودھ للت جین، نیشنل کو آرڈینیٹر آکاش جھاجڈ، شاہنواز شیخ، عبد الواحد قریشی و دیگر ذمہ داران نے اپنی ذمہ داری کو بحسن وخوبی انجادم دیا اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ اقلیتی شعبہ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڈھی کی ہدایت کے بعد اقلیتی شعبہ میں موجودہ وائس چیئر مین انورودھ للت جین، و نیشنل کو آرڈینیٹر آکاش چھاجڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس سلسلے میں پورے ملک سے جین سماج سے تعلق رکھنے والے انتہائی اہم لوگوں کودعوت دی گئی تھی۔ اس میٹنگ کا خاص مقصد یہ تھا کہ موجودہ وقت میں جین سماج کی سیاسی اورسماجی مسائل پر از سر نو غوروخوض کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔