کانگریس کے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کا آغاز، جے رام رمیش نے نئے قانون کو دیہی ہندوستان کے خلاف قرار دیا

کانگریس نے منریگا بچاؤ سنگرام کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیا قانون روزگار کے قانونی حق کو ختم، مالی بوجھ ریاستوں پر منتقل اور مرکزیت کو مضبوط کرتا ہے، جس کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز / وپن</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے منریگا بچانے کی مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں پارٹی کے سینئر لیڈر جے رام رمیش اور جنرل سکریٹری تنظیم کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کے نئے قانون پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ نیا قانون دیہی ہندوستان کے مفادات کے خلاف ہے اور اس سے منریگا کے تحت حاصل روزگار کا قانونی حق ختم ہو جاتا ہے، جبکہ کے سی وینوگوپال نے الزام لگایا کہ یہ قانون منریگا جیسے مانگ پر مبنی پروگرام کو ختم کرنے کی منظم کوشش ہے جو کروڑوں دیہی خاندانوں کے لیے سہارا رہا ہے۔

جے رام رمیش نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ منریگا بچاؤ مہم نہیں بلکہ منریگا بچاؤ سنگرام (جدوجہد) ہے، جس کا مقصد دیہی روزگار کے قانونی اور آئینی حق کو بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سنگرام آٹھ جنوری سے شروع ہو کر پچیس فروری تک چلے گا اور اس کی نوعیت دہلی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ پنچایت، بلاک، ضلع اور ریاستی سطح پر منظم انداز میں آگے بڑھے گی۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ سے حال ہی میں منظور کیا گیا نیا قانون منریگا کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اس قانون میں واحد ضمانت مرکزیت کی ہے، نہ کہ روزگار کی۔ انہوں نے کہا کہ منریگا کے تحت روزگار ایک قانونی اور آئینی حق تھا، جبکہ نئے قانون میں یہ حق ختم کر دیا گیا ہے اور فیصلہ مرکز کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے کہ کہاں، کس ریاست میں اور کن پنچایتوں میں کام ہوگا۔ انہوں نے پنچایتوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کو بھی شدید مرکزیت کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ منریگا قانون دو ہزار پانچ میں منظور ہوا اور اگرچہ اس میں پانچ سال کے اندر ملک بھر میں نفاذ کی بات تھی، لیکن اس وقت کی حکومت نے تین برس میں ہی تمام اضلاع میں اسے نافذ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے قانون میں یہ بنیادی شق ہی ختم کر دی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب منریگا پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ نہیں رہے گا بلکہ مرکز کی مرضی پر منحصر ہوگا۔


جے رام رمیش نے مالی پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے قانون کے تحت ساٹھ فیصد رقم مرکز اور چالیس فیصد رقم ریاستوں کو دینی ہوگی، جو آئین کے متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس طرح کا فارمولہ ریاستوں کی رضامندی کے بغیر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن ریاستوں میں اب تک مکمل رقم مرکز سے آتی تھی، وہاں ریاستی حکومتوں پر ہزاروں کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا، جس کے ذرائع واضح نہیں ہیں۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری تنظیم کے سی وینو گوپال نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ملک بھر میں منریگا بچاؤ سنگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق نیا قانون منریگا جیسے مانگ پر مبنی غربت مٹاؤ پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش ہے، جو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال کروڑوں دیہی خاندان منریگا کے تحت کام حاصل کرتے ہیں اور بحران کے وقت یہی اسکیم غریبوں کے لیے سب سے مضبوط سہارا بنتی ہے۔

دریں اثنا، سی وینو گوپال نے خبردار کیا کہ نئے قانون کے تحت روزگار اب حق نہیں رہا بلکہ سرکاری اجازت بن چکا ہے۔ اگر کسی پنچایت کو مرکز منتخب نہ کرے تو وہاں کے لوگوں کو کام کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا، چاہے غربت یا مجبوری کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی حد اور مخصوص الاٹمنٹ کے ذریعے قانونی حق کو خاموشی سے ختم کیا جا رہا ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ یہ قومی سطح کا سنگرام ہوگا، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں، مزدور تنظیمیں اور شہری ادارے شامل ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح کسان تحریک کے نتیجے میں متنازع قوانین واپس لیے گئے، اسی طرح یہ سنگرام بھی کامیاب ہوگا اور منریگا کو اس کی اصل شکل میں واپس لایا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔