میرٹھ: دھرنے پر بیٹھے کسان کی موت پر ہنگامہ، معاوضہ اور سرکاری ملازمت کا مطالبہ

ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اعلی افسران نے موقع پر پہنچ کر کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے، کسانوں کا مطالبہ ہے کہ متوفی کی ماں کو ایک کروڑ روپئے معاوضہ اور سرکاری نوکری دی جائے۔

کسان، تصویر آئی اے این ایس
کسان، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

میرٹھ: اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں نئی لینڈ اکیوزیشن پالیسی (زمین حاصل کرنے کی پالیسی) کے تحت معاوضہ کے مطالبے کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے ایک نوجوان کسان کی موت سے مشتعل کسانوں نے آج جم کر ہنگامہ کیا۔

پولیس نے منگل کو بتایا کہ شتابدی نگر سیکٹر۔4 بی میں بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کی زمین حصولیابی کے لئے نئی پالیسی کے تحت معاوضہ کے مطالبے کے ساتھ گزشتہ کئی سالوں سے احتجاج جاری ہے۔ کنچن پور گھوپلا گاؤں باشندہ 27 سالہ کسان راہل کی پیر کی رات اپنے والد کرشن پال چودھری کے ساتھ دھرنے پر بیٹھا تھا۔ آج علی الصبح اچانک اس کی موت ہوگئی۔


اس کی اطلاع ملتے ہی بڑے پیمانے پر کسان جائے دھرنے پر جمع ہو گئے۔ بی کے یو لیڈر وجئے پال گھوپلا کی اپیل پر کسانوں نے لاش کو رکھ کر ہنگامہ کیا اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اعلی افسران نے موقع پر پہنچ کر کسانوں کو کافی سمجھنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ متوفی کے ماں کو ایک کروڑ روپئے کا معاوضہ اور سرکاری نوکری دی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔