مولانا فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب

یہ پہلا انتخاب تھا جس میں زبردست اٹھا پٹخ، کشمش، رسہ کشی اور لابنگ دیکھی گئی، ارباب حل و عقد نے اتفاق رائے سے امیر شریعت منتخب کرنے پر زور دیا لیکن اتفاق قائم نہ ہونے پر ووٹنگ کا راستہ اختیار کیا گیا۔

امارت شرعیہ کے نئے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی
امارت شرعیہ کے نئے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی
user

یو این آئی

پٹنہ: کئی ماہ سے مسلسل کشمکش اور کھینچ تان کے درمیان آج ووٹنگ کے ذریعہ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب ہوگئے ہیں۔ امیر شریعت کا انتخاب ارباب حل و عقد کرتے ہیں۔ ابتدائی خبروں کے مطابق مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو 347 ووٹ ملے جب کہ ان کے نزدیکی حریف مولانا انیس الرحمان قاسمی کو 197 ووٹ ملے ہیں۔ اس انتخاب میں چھ سو سے زائد ارباب حل و عقد نے حصہ لیا۔

اس سے قبل چار پانچ ناموں پر غور کیا جارہا تھا جس میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی نذر توحید اور موجودہ نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی، مولانا انیس الرحمان قاسمی اور مولانا احمد ولی فیصل رحمانی تھے۔ جن میں سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مفتی نذر توحید اور موجودہ نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی نے اپنا نام واپس لے لیا۔ جس کے بعد دونوں (مولانا احمد ولی فیصل رحمانی اور مولانا انیس الرحمان قاسمی) کے درمیان مقابلہ ہوا۔ یہ انتخاب آٹھویں امیرشریعت کے لئے ہوا ہے، یہ انتخاب امیر شریعت مولانا ولی احمد رحمانی کے انتقال کی وجہ سے ضروری ہوگیا تھا۔ اجلاس میں مولانا صغیر احمد رشادی امیر شریعت کرناٹک اور امیر شریعت آسام مولانا یوسف بھی بطور مشاہدین شریک تھے۔


یہ پہلا انتخاب تھا جس میں زبردست اٹھا پٹخ، کشمش، کھینچ تان، لابنگ اور اس طرح دیگر چیزیں بڑے پیمانے پر دیکھی گئیں۔ ارباب حل و عقدنے اتفاق رائے سے امیر شریعت منتخب کرنے پر زور دیا لیکن اتفاق رائے پیدا نہ ہونے پر ووٹنگ کا راستہ منتخب کیا گیا۔ پولیس کے بندوبست اور تمام انتظامات کے دوران ووٹنگ کا عمل شروع ہوا۔ انتخابی عمل ختم ہونے کے بعد مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کو آٹھویں امیر شریعت منتخب کرلیا گیا۔ امیر شریعت کی مجُلس میں موجود تمام ارباب حل و عقد نے امیر شریعت ثامن کے ہاتھوں بیعت کیا۔ ان کے ہاتھوں پر سب سے پہلے قاضی شریعت مولانا انظار عالم قاسمی نے بیعت کیا اور اس کے بعد نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی نے بیعت کیا۔

اس پروگرام کی صدارت نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی نے کی، جبکہ مجلس استقبالیہ کے صدر رکن راجیہ سبھا احمد اشفاق کریم نے مہمانوں کا استقبال کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی بھی اپنے والد مولانا سید محمد ولی رحمانی اورجدامجدؒکی طرح علم وعمل کے حسین سنگم ہیں۔ ان کی شخصیت میں عصری اوردینی علوم کا امتزاج ہے۔ مولانااحمدولی فیصل رحمانی کی فکر ہے کہ علماء، جدید علوم و ٹکنالوجی سے واقف ہی نہیں، بلکہ ان کے ماہر ہوں، چنانچہ انھوں نے جامعہ رحمانی میں شعبہ ’دارالحکمت‘ قائم کیااورتقریباً دس برسوں سے آپ کی نگرانی میں کوشش ہے کہ حفظ کے طلبہ بھی حافظ ہونے کے بعد عربی سے اس قدرواقف ہوں کہ قرآن مجیدکاخودترجمہ کرلیں،ساتھ ہی زوردیتے رہے کہ وہاں کے اساتذہ، کمپیوٹر، ٹیکنالوجی سیکھیں اورجدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ گہرائی سے اندازہ لگائیں تو یہ فکر کوئی عام بات نہیں ہے۔ آپ کو قرآن مجید سے زبردست محبت ہے اوراس پر پوری توجہ ہے۔ مصر میں آپ نے باضابطہ تجوید کی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ رحمانی میں ابتدائی تعلیم اور والد بزرگوارؒ سے تربیت کے بعد عالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہر قاہرہ، مصر سے علوم اسلامیہ اور عربی زبان میں درک حاصل کیا، اس کے ساتھ عصری علوم اورجدید ٹکنالوجی کے مانو بادشاہ ہی ہیں۔ ان کی انگریزی تقاریر سننے کے بعد علم کی گہرائی، وسعت مطالعہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ نے مغربی دنیا کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ امریکہ میں نیوکلیئر پاور پلانٹ اور آئل و گیس محکموں کی اہم ذمے داری نبھائی ہے۔ 2001 سے 2005 تک امریکہ کی مختلف اعلیٰ کمپنیوں میں خدمات دیتے رہے۔ آپ کی صلاحیتوں کودیکھتے ہوئے ایکسچنجر کمپنی نے 2005میں بطور فیکلٹی مقرر کیا، یہاں مولانا فیصل رحمانی پروجیکٹ مینجمنٹ، ورک پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ، سولیوشن ڈیلیوری فنڈامنٹل کے لکچر دیتے رہے۔ بڑی عالمی سافٹ ویئر کمپنی Adobe کے ایم ڈی ایم کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ 2012 میں بی پی کمپنی میں ٹرمنل اینڈ ٹرانسپورٹ منیجر بنائے گئے، 2013 میں ماس میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ کی ملٹی نیشنل کمپنی Disnney میں بطورسروس منیجر تقرری ہوئی۔ متعدد بین الاقوامی کمپنیوں میں قائدانہ ذمے داریاں انجام دینے کے بعد 2015 میں آپ امریکہ کی معروف اور دنیا کی سرفہرست دس یونیورسیٹی میں شامل کیلیفورنیا یونیورسیٹی سے ڈائریکٹر آف اسٹریٹیجک پروجیکٹ مینجمنٹ کے طور پر منسلک ہوئے۔ جہاں اب تک مختلف اعلیٰ تعلیم اور کورسز میں رہنمائی کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ عراق جنگ کے موقعہ پر آپ کی کمپنی نے آپ کی نگرانی میں متعدد رفاہی کام کیے جس کی کافی پذیرائی ہوئی۔ ان کے امیر شریعت منتخب ہوجانے سے نوجوان علماء میں جوش و خروش ہے۔ نوجوانوں کی طرف یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نوجوان امیر کی قیادت میں امارت شرعیہ اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نئی تاریخ رقم کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔