مہاراشٹر میں لاڈکی بہن یوجنا کی ایڈوانس رقم پر روک، کانگریس کی شکایت پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ

مہاراشٹر اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے لاڈکی بہن یوجنا کے تحت جنوری 2026 کی قسط ایڈوانس میں دینے پر روک لگا دی ہے۔ کمیشن نے صرف دسمبر 2025 کی باقاعدہ قسط دینے کی اجازت دی ہے

الیکشن کمیشن، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی: مہاراشٹر اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے ریاست میں نافذ مثالی ضابطۂ اخلاق کے پیش نظر وزیر اعلیٰ ’ماجھی لاڈکی بہن یوجنا‘ کے تحت جنوری 2026 کی قسط ایڈوانس میں دینے پر روک لگا دی ہے۔ یہ فیصلہ ریاست کے مختلف شہروں میں ہونے والے میونسپل کارپوریشن انتخابات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اہل خواتین کو ہر ماہ 1500 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے ایک کروڑ سے زائد خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے مکر سنکرانتی کے موقع پر دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کی دو قسطیں ایک ساتھ یعنی 3 ہزار روپے ادا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد کانگریس نے اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے مثالی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس معاملے میں مہاراشٹر اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے شکایت کی۔

مہاراشٹر کانگریس کے جنرل سکریٹری سندیش کونڈویلکر نے الیکشن کمیشن کو ارسال شکایت میں کہا کہ ووٹنگ سے عین قبل اتنی بڑی رقم کی منتقلی خواتین ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ انہوں نے اسے اجتماعی سرکاری رشوت سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 جنوری کو 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ہونے والی ووٹنگ سے ایک دن پہلے اس طرح کی ادائیگی غیر مناسب ہے۔


شکایت موصول ہونے کے بعد اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری راجیش اگروال سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ چیف سیکریٹری نے اپنی وضاحت میں کہا کہ لاڈکی بہن یوجنا ایک مسلسل جاری رہنے والی اسکیم ہے، بالکل سنجے گاندھی نرادھار یوجنا کی طرح اور انتخابی اعلان سے قبل شروع ہونے والی ایسی اسکیموں کو ضابطۂ اخلاق کے دوران بھی جاری رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔

تاہم الیکشن کمیشن نے اپنے حتمی فیصلے میں واضح کیا کہ دسمبر 2025 کی معمول کی قسط ادا کی جا سکتی ہے لیکن جنوری 2026 کی قسط ایڈوانس میں جاری نہیں کی جا سکتی۔

کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی کہ نہ تو نئے مستحقین کو شامل کیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کا اضافی فائدہ دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت کو 14 جنوری سے پہلے جنوری کی قسط منتقل کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس سے قبل کہا تھا کہ یہ اسکیم انتخابی پابندیوں سے آزاد ہے اور خواتین کو ان کا حق ملتا رہے گا۔ دوسری جانب کانگریس نے واضح کیا کہ وہ اسکیم کی مخالفت نہیں کر رہی، بلکہ انتخابات سے قبل ایڈوانس ادائیگی کو نامناسب سمجھتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے اس موقف کو خواتین مخالف رویہ قرار دیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔