مدھیہ پردیش: نفرت کی انتہا! چوڑی فروخت کر رہے تسلیم کی لنچنگ کی کوشش

کانگریس اقلیتی محکمہ کے سربراہ عمران پرتاپ گڑھی نے اس معاملہ پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے، انھوں نے فوراً اندور کے مقامی کانگریس کارکنان کو اس نوجوان کی مدد کرنے کی ہدایت دی۔

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

اتر پردیش کے ہردوئی ضلع باشندہ تسلیم کے ساتھ مدھیہ پردیش کے اندور میں لنچنگ کی کوشش ہوئی ہے۔ گلیوں میں جا کر اور پھیری لگا کر چوڑی فروخت کرنے والے اس نوجوان کی بھیڑ نے بری طرح پٹائی کی اور ہندوتوا پسند لیڈران کی بھیڑ لگاتار ایسا کرنے کے لیے لوگوں کو اکساتے رہے۔ یہ واقعہ نفرت کی انتہا کو ظاہر کر رہا ہے کیونکہ اب ایسے واقعات ہندوستان کے مختلف گوشوں سے لگاتار سامنے آنے لگے ہیں۔ تسلیم کے ساتھ جو زیادتی ہوئی، اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے سامان اور پیسے چھین لیے گئے اور یہ متنبہ بھی کیا گیا کہ کوئی بھی مسلمان شخص ہندو محلے میں سامان فروخت کرنے نہ پہنچے۔ متاثرہ نوجوان تسلیم نے ظلم کا شکار ہونے کے بعد بس یہی سوال کیا کہ ’’کیا مسلمان ہونا گناہ ہے؟‘‘ سچ تو یہ ہے کہ بے قصور تسلیم کا صرف یہی ایک قصور ہے کہ وہ مسلمان ہے۔

کانگریس اقلیتی محکمہ کے سربراہ عمران پرتاپ گڑھی نے اس معاملہ پر سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے فوراً اندور کے مقامی کانگریس کارکنان کو اس نوجوان کی مدد کرنے کی ہدایت دی اور کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود نے نوجوان کی مدد کرتے ہوئے اس کی ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ ابھی تک ملزمین کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ اس واقعہ کو لے کر اندور میں کشیدگی کا ماحول ہے۔


واقعہ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ہردوئی ضلع واقع براج مئو کا رہنے والا 25 سالہ تسلیم (ولد مہر علی) پھیری لگا کر چوڑیاں فروخت کرنے کا کام کرتا ہے۔ 22 اگست کو دوپہر تقریباً 2.30 بجے وہ چوڑی فروخت کرنے کے لیے بان گنگا علاقہ میں گیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ گوند نگر علاقے میں چوڑی فروخت کر رہا تھا تبھی اس کے پاس 6-5 لوگ آئے جن کا ایک پیلا کپڑا پہنے ہوئے شخص قیادت کر رہا تھا۔ تسلیم کے مطابق اس شخص نے اسے کہا کہ ’’مسلمان ہو کر ہندو محلے میں سامان فروخت کرتا ہے‘‘، اور یہ کہتے ہوئے پیٹنا شروع کر دیا اور اس کا سارا سامان چھین لیا۔ خود کو ہندوپرست لیڈر کہنے والے اس شخص نے لوگوں سے فروخت کا سامان چھین کر لے جانے کے لیے بھی کہا اور اس کی جیب سے پیسے بھی نکال لیے۔ اتنا ہی نہیں، اس کے فوراً بعد اس واقعہ کی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی۔ اس ویڈیو میں تسلیم کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی تصدیق ہو رہی ہے۔

حالانکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ویڈیو میں صاف صاف سب کچھ پتہ چلنے کے بعد بھی پولیس نے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ تسلیم نے بتایا کہ وہ بری طرح ڈر گیا ہے، اس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ وہ اتر پردیش کے ہردوئی کا رہنے والا ہے اور یہاں چوڑی فروخت کرنے کا کام کر رہا ہے۔ اسے کہا گیا کہ مسلمان ہو کر بھی یہاں سامان کیوں فروخت کر رہا ہے۔ تسلیم کہتا ہے کہ ’’پیلے کپڑے والا لیڈر لوگوں سے مجھے پیٹنے کے لیے کہہ رہا تھا۔ کیا میرا مسلمان ہونا ہی گناہ ہے۔ میں اپنی فیملی کا پیٹ پالنے کے لیے چوڑی فروخت کر رہا تھا، میں کچھ بھی غلط نہیں کر رہا تھا۔ میرا دل بہت پریشان ہے۔‘‘


اندور سنٹرل کوتوالی پولیس نے نامعلوم ملزمین کے خلاف فرقہ وارانہ خیرسگالی کو برباد کرنے، لوٹ پاٹ کرنے اور مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیا ہے۔ کانگریس اقلیتی محکمہ کے سربراہ عمران پرتاپ گڑھی نے ’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے انھیں بہت زیادہ حیرانی ہوئی اور وہ رات بھر سو نہیں پائے ہیں۔ مقامی کارکنان نے انھیں تسلیم کی لنچنگ کی کوشش کی ویڈیو بھیجی تھی۔ ویڈیو میں برسرعام بے گناہ تسلیم کو صرف اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ سب سے خراب بات یہ ہے کہ ایک آدمی کہہ رہا ہے کہ ایک ایک تو سب مار ہی دو۔ ایک نابالغ بچہ بھی مظلوم نوجوان تسلیم کو مار رہا ہے۔ آخر یہ کیسی نفرت ہے۔ مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ ویڈیو افغانستان کی نہیں ہے بلکہ اندور کے بیچوں بیچ شہر کی ہے۔ یہ واقعہ پریشان کرنے والا ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے سوال کیا کہ کیا پی ایم نریندر مودی اسی طرح کے خوابوں کا ہندوستان بنانا چاہتے تھے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

اس واقعہ کے بعد اندور کے مقامی لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ مقامی شہری نول کشور نے بتایا کہ واقعہ اندور کی پیشانی پر داغ کی طرح یاد کیا جائے گا۔ اندور کی ثقافت آپسی تعاون اور بھائی چارے کی ہے، اور نفرت کی کھیتی کرنے والے لوگوں نے اس بھائی چارے میں پلیتہ لگانے کا کام کیا ہے۔ یہ پوری طرح غلط ہے۔ جن لوگوں نے بھی یہ کیا ہے، وہ ان کی بالکل بھی حمایت نہیں کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔