مصر میں ’پارٹ ٹائم‘ شادی کو باطل اور حرام قرار دے دیا گیا

مصری دارالافتا نے خبردار کیا ہے کہ شادی کے معاہدے کو نیا نام دینا نمود ونمائش، سستی شہرت کا حصول اور دینی روایات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ اس طرح کا کوئی بھی تصور اسلام میں موجود نہیں۔

تصویر بشکریہ urdu.alarabiya.net
تصویر بشکریہ urdu.alarabiya.net
user

قومی آوازبیورو

مصر میں "پارٹ ٹائم" شادی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک کی دارالافتاء کونسل نے خبردار کیا ہے کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔ اس نوعیت کا کوئی بھی اقدام اسلام کے تصور نکاح کے منافی، باطل اور حرام سمجھا جائے گا۔

مصری دار الافتاء، تصویر بشکریہ urdu.alarabiya.net
مصری دار الافتاء، تصویر بشکریہ urdu.alarabiya.net

خیال رہے کہ مصر میں سوشل میڈیا پر ’پارٹ ٹائم‘ شادی سے متعلق بحث چل رہی ہے، تو اس نئے رحجان کی حمایت اور مخالفت آرا سامنے آنے لگیں۔ جس کے بعد مصری دارالافتا نے خبردار کیا ہے کہ شادی کے معاہدے کو نیا نام دینا نمود ونمائش، سستی شہرت کا حصول اور دینی روایات کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔


’پارٹ ٹائم‘ شادی دکھاوا اور اقدار کمزور کرنے کی کوشش

دارالافتا نے مزید کہا کہ شادی کے معاہدے میں اصطلاحات کی جدت کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے۔ شادی سے متعلق نئی اصطلاحات نکاح متعہ کے معنوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کی اصطلاحات دکھاوے، شہرت اور اقدار کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور معاشرے میں مزید الجھن پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اسلام ایسے مشاغل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

’پارٹ ٹائم‘ شادی حرام اور باطل اقدام

دارالافتاء نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کچھ لوگ شادی کے معاہدے کو نئے نام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ پارٹ ٹائم شادی کی اصطلاح استعمال کر کے شادی کو وقتی معاہدہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کا کوئی بھی تصور اسلام میں موجود نہیں۔ یہ سرا سر باطل اور حرام ہے۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔